سوال (6571)

اگر ایک بندہ کسی سے آرڈر لے کے کھانا پکواتا ہے کسی اور سے، سامان وہ خود لاتا ہے سارا کچھ وہ خود کرتا ہے،بس پکواتا کسی اور سے ہے اور وہ اس کی مزدوری اس کو دے دیتا ہے، اگلے بندے کو پہلے وہ بتا دیتا ہے کہ اتنے کی بنیں گی، تو کیا وہ اس میں سے اگر کچھ پیسے بچ جائیں تو وہ خود رکھ سکتا ہے؟

جواب

دیکھیے، کمیشن کا معاملہ اصولاً جائز ہے اور کمیشن پر کام کرنا شرعاً منع نہیں۔ جو لوگ باقاعدہ اور پروفیشنل طور پر اس میدان میں کام کرتے ہیں، وہ کمیشن کی بنیاد پر ہی اپنی خدمات انجام دیتے ہیں، ان پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ وصول کر رہے ہوتے ہیں۔ البتہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص عارضی طور پر یا کسی ایک معاملے میں کمیشن لے اور اس بات کو واضح نہ کرے۔ ایسی صورت میں جس نے کام کروایا ہو، اس کے دل میں بدگمانی پیدا ہو سکتی ہے، مثلاً یہ خیال کہ اصل چیز تو دس کی تھی مگر اسے بیس کی بتا دی گئی۔
لہٰذا بہتر اور زیادہ مناسب طریقہ یہ ہے کہ ابتدا ہی میں بات صاف کر دی جائے کہ میں اپنے کام، بھاگ دوڑ اور دیگر اخراجات کے عوض اتنا معاوضہ یا کمیشن لوں گا۔ اس طرح معاملہ بھی واضح رہتا ہے اور بدگمانی و اختلاف کا دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: اگر سب جگہ سے ایک ہی ریٹ ہو، ہم بھی وہ ہی ریٹ بتائیں اور کچھ بچت آ جائے تو پھر بھیاضافی پیسے تو نہیں رکھ سکتے ہیں، مطلب اگر سامان تھوڑا تھوڑا کر کے لیں تو مہنگا ملتا ہے، ہم ایک ہی دفعہ اپنے پیسوں سے زیادہ سامان خرید لیتے ہیں تو پھر ہمیں تھوڑا سستا مل جاتا ہے، تو اس لیے ہمیں بچت آ جاتی ہے، ریٹ ہم زیادہ نہیں لیتے پیسے ہم دوسرے لوگوں سے کم ہی لیتے ہیں، اگر باہر سے ۳۳،۳۴ ہزار کی تین دیگ بنتی ہیں، تو ہم ۲۸،۲۹ ہزار کی دیتے ہیں، اس میں سے بھی ہمیں کچھ بچ جاتا ہے تو وہ؟
جواب: میں نے یہی عرض کیا تھا کہ کمیشن پر کام کرنا اور کروانا جائز ہے، اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن جو بندہ کبھی کبھار اس طرح کا کام کرتا ہے، تو بعد میں یہ اندیشہ رہتا ہے کہ جن لوگوں سے اس نے کام کروایا ہو وہ بدگمان ہو جائیں۔ پھر وہ بہانہ بنا کر آپ پر اعتراض کر سکتے ہیں یا یہ الزام لگا سکتے ہیں کہ آپ نے ہمارے ساتھ ایسا کیا، حتیٰ کہ آپ پر الزام تراشی اور تلخ الفاظ کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ورنہ اصل بات یہ ہے کہ کمیشن پر کام کرنا اور کروانا جائز ہی ہے۔ البتہ اگر سامان آپ کا اپنا ہو تو معاملہ اور بھی آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں جواز اور زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ صرف مخصوص بات یہی تھی کہ اگر معاملہ کبھی کبھار کا ہو، یا آپ نے اتفاقاً کسی ایک مسئلے میں اس طرح کام کیا ہو، تو بہتر یہی ہے کہ پہلے ہی سامنے والے کو آگاہ کر دیا جائے۔ اور اگر آپ مستقل اس طرح کے کام باقاعدہ طور پر کرتے ہیں، چاہے دوسروں کی دیگیں پکواتے ہوں یا آرڈر دیتے ہوں، تو اس میں پھر کوئی حرج نہیں پڑتا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: مستقل ہے اب۔
جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ