سوال (6559)
آج کل ایک ٹرینڈ نکلا ہوا ہے کہ پیدل مدینہ کی طرف سفر یا پیدل حج کے لیے سفر اور روزانہ ویلاگ شیئر کیے جاتے ہیں۔ اور پیچھے بینر لگا دیا جاتا ہے ملتان تا مدینہ تک! کوئی ملتان سے۔ کوئی بہاولپور سے۔ تو کوئی کہیں سے۔
جبکہ آج کے دور میں بہت سی سہولیات ہیں تو ایسی آسان سہولیات کے باوجود میں ایسا تکلف کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے؟
جواب
حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو شدید تکلیف کی حالت میں تھا۔ لوگ اس پر سایہ کیے ہوئے تھے اور وہ کمزوری کے باعث بے حال ہو رہا تھا۔ جب نبی ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اسے کیا ہوا ہے تو بتایا گیا کہ اس نے یہ نظر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل جائے گا۔
اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بے نیاز ہے کہ کوئی شخص خود کو اس طرح مشقت میں ڈالے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے کہو سوار ہو جائے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود کو بلا وجہ تکلیف دینا اور غیر ضروری مشقت اٹھانا کوئی پسندیدہ عمل نہیں۔ ایسی حرکات بسا اوقات ریاکاری کی صورت اختیار کر لیتی ہیں، جو انسان کو ہلاکت اور گمراہی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اس قسم کی غیر ضروری حرکات و سکنات ہرگز پسند نہیں ہیں۔
فضیلتہ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




