سوال (6461)

سوال یہ ہے کہ ایک بھائی ہیں جو ایزی پیسہ جائز کیش کا کام کرتے ہیں تو مثال کے طور پر ایک بھائی ان کے پاس گیا کہ یہ پانچ لاکھ ہے اس کو میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیں اور ساتھ ہی مجھے پانچ لاکھ اور بھی ٹرانسفر کر دیں اپنی طرف سے تو اس بھائی نے کہا ہے کہ یہ جو اپ نے پانچ لاکھ اپنا دیا ہے اس کا اور یہ جو میں دے رہا ہوں اس کا تو اس پر پانچ روپے ہزار کے ٹیکس ہے جو بھیجنے کا ہے تو کیا اسلام میں یہ طریقہ جائز ہے؟
اب بھیجنے کے اس کے کتنے لگتے ہیں دو یہ تین روپے یا 10 روپے بھی کوئی لے رہا ہے اور پھر ساتھ اس نے کہا کہ یہ جو پانچ لاکھ میں نے اپ کو دستی دیا ہے تو یہ اپ مجھے لوٹا دینا نہیں تو 24 گھنٹے میں 1000 پر بھی پانچ روپئے ٹیکس لگے گا تو یہ دونوں سوال قران و سنت کی روشنی میں بتائیے گا ایک تو اس نے بھیجنے کے پانچ روپے ہزار روپے ٹیکس لگائے دوسرا جو دستی پیسے اس نے دیے تو اس پر بھی 24 گھنٹوں میں پانچ روپئے ٹیکس لگائے تو قران و سنت کی روشنی میں کیسا ہے؟

جواب

سروس چارجز ہوتے ہیں، کم پر کم اور زیادہ پر زیادہ ہوتے ہیں، اس کے علاؤہ اور کوئی چیز لگا سکتے ہیں، مسلمان پر ٹیکس نہیں ہوتا، مسلمان کو نہ ٹیکس لینا چاہیے، نہ دینا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ