سوال 6719
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک خاتون ہے اسے پیمپر لگتا ہے اتارنے والی رات کو 10 بجے آتی ہے دوبارہ لگا جاتی ہے، تو کیا خاتون نمازیں اپنی چھوڑ دے یا پھر جب وہ پیمپر اتر جائے تب وہ پڑھ لے اور نمازوں کو جمع کر لے صرف فرائض پڑھ لے یا پھر پیپمر کی حالت میں بھی وہ نماز ادا کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گھر والوں کو چاہیے کہ بہو یا بیٹی وغیرہ، کوئی نہ کوئی تو ہو جو اس کی مدد کر سکے۔ وہ ہر نماز کے لیے اس کا پیمپر بدل دے اور تیمم یا وضو کروا دے۔ یہی سب سے بہتر طریقہ ہے۔
اگر یہ طریقہ ناقابلِ عمل ہو، تو کم از کم ایک دفعہ اس کو پاک کر کے پیمپر لگا دیا جائے اور وہ دو نمازیں ادا کر دے، چاہے تقدیم کے ساتھ ہوں یا تاخیر کے ساتھ، یعنی جمع کر کے پڑھی جائیں۔
اگر تکلیف واقعی بہت زیادہ ہو تو آخری صورت یہ ہے، جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا، کہ وہ ساری نمازیں ایک ساتھ ادا کر لے۔ یہ صورت بھی مجبوری کے احکامات کے تحت جائز ہے۔
البتہ بہتر یہ ہے کہ ایک دفعہ پیمپر لگ جائے اور وہ اپنا تیمم یا وضو ہر نماز کے لیے کر لے، پیمپر لگا رہنے دے اور نمازیں وقت پر ادا کرتی رہے۔ع
ترغیب دلائی جائے کہ گھر والے ایسی کیفیت میں ان کی مدد کریں، سہارا بنیں، اور اس میں اجر کمائیں، اور اللہ رب العالمین سے اپنے لیے عافیت طلب کریں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



