سوال        6747

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے”
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں رات میں اپنی تمام مخلوق کی طرف نظرِ رحمت فرماتے ہیں، پھر اپنی جمیع مخلوق کو سوائے مشرک اور مشاحن (دل میں کینہ رکھنے والے) کے، بخش دیتے ہیں” حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اس رات کا قیام کرو اور اس کے دن روزہ رکھو”۔ ان احادیث کے حوالے سے کیا حکم ھے؟

جواب

منکر و غیر محفوظ ہے
پندرہ شعبان کے متعلق تمام روایات ضعیف،منکر ،مضطرب المتن ہیں۔
رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین سے خاص پندرہ شعبان کا روزہ وغیرہ کا اہتمام کرنا ثابت نہیں ہے۔ باقی الله تعالى کا ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرمانا اور سوموار ،جمعرات کو بندوں کے اعمال کا الله تعالى کے ہاں پیش ہونا اور اہل شرک کے علاوہ سب کو بخش دینا ثابت ہے۔ دیکھئے صحیح مسلم وغیرہ۔
تو بتائیں اس رات کی کیا خاص فضیلت ہے ؟
یہ رات اہل بدعت کی طرف سے دیگر بدعات کی طرح خاص کر لی گئی ہے جس سے خیر القرون کے مسلمان بے خبر تھے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ