سوال         6925

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
میرا تعلق میڈیکل کے شعبے سے ہے اور میرا اپنا کلینک ہے۔ ہمارے پاس مختلف فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی ادویات فروخت کرنے کے لیے آتی ہیں۔ عام طور پر کمپنیاں ادویات پر تقریباً 15 فیصد کمیشن دیتی ہیں۔
لیکن بعض کمپنیاں اس سے مختلف طریقہ اختیار کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم آپ کو 15 فیصد سے زیادہ، مثلاً 30 فیصد تک منافع دیں گے، لیکن اس کی ایک شرط ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم ان سے تین لاکھ روپے کی ادویات خریدنے کا معاہدہ کریں تو وہ اس پر بننے والا اضافی منافع (مثلاً تقریباً 25 ہزار روپے) ہمیں پہلے ہی نقد دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اپنا منافع ابھی رکھ لیں، پھر ہماری ادویات آہستہ آہستہ لیتے رہیں۔ جب تین لاکھ کی خریداری پوری ہو جائے گی تو پھر اس معاہدے کو دوبارہ رینیو کر لیا جائے گا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح پہلے سے منافع یا کمیشن لے کر بعد میں ادویات خریدنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کمپنی ادویہ بھی دے رہی منافع بھی دے رہی یعنی بائع بھی خود مشتری بھی خود؟
ہاں البتہ کمپنی 3 لاکھ کی دوائی سے 25 ہزار رعایت کر سکتی ہے۔ تاکہ یہ ڈاکٹر دوائی اپنے اسٹور پر بیچ کر منافع حاصل کرے۔ ویسے آج کل تو ڈاکٹروں کو بھاری رشوت نسخہ لکھنے پر دی جاتی ہے۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ