سوال 6826
السلامُ عليكم و رحمةُ الله و بركاته!
ایک امام ایک شہر میں امام امامت کروا رہا ہے اور دوسرے شہر میں فون کے ذریعہ بندے اس کی امامت میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
نہیں، اس طرح اقتداء ممکن نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ٹیلیفون کی بات تو بہت دور کی ہے۔ اگر مسجد کی اذان آپ کے گھر تک پہنچ رہی ہے، تب بھی اقتداء کے لیے آپ کو خود مسجد کے احاطے میں جانا ضروری ہے، چاہے مرد ہوں یا خواتین۔ گھر میں بیٹھ کر آپ مسجد کی جماعت کی اقتداء نہیں کر سکتے، اور ٹیلیفون یا کسی دیگر فاصلاتی ذریعہ سے تو معاملہ بالکل الگ ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا اگر نماز جنازہ باہر کے ملک میں ہو رہا ہو اور پاکستان میں ویڈیو کال پر لوگ پڑھ سکتے ہیں؟ یا وہ بھی نہیں جائز؟
جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرہ
ایسے ہوا تھا اس لیے پوچھا انگلینڈ میں میت کا جنازہ اور پاکستان میں لوگوں نے کال پر اسکا جنازہ پڑھا۔
جواب: کوئی صورت جائز نہیں ہے۔ یہ غیر ضروری سوالات ہیں، اصل میں یہ بالکل بھی جائز نہیں۔ اسے سمجھیں کہ یہ ادلہ سے ہٹ کر ایک راستہ ہے، جس کی طرف شیخ پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ نے اپنے رسائل میں اشارہ کیا تھا: کہ جب لوگ دلائل نہیں سنیں گے تو ایک دن ایسا آئے گا کہ اللہ ایک، رسول ایک اور قبلہ ایک، تو امام بھی ایک ہونا چاہیے، اور لوگ ٹی وی کھول کر اسی امام کے پیچھے کھڑے ہو جائیں گے۔
لہذا یہ طریقہ جائز نہیں ہے۔ کرونا کے دوران بھی بعض لوگوں نے ایسا کیا، جو دراصل جہالت کی انتہا تھی۔ شیخ کی بات اسی حوالے سے مکمل ہو گئی۔ جزاک اللہ۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
یہ دن بھی آگئے پھر وحدت کا بہترین طریقہ امام کعبہ کے پیچھے ہی سب ہو لیں نماز پنجگانہ کے لئے درست نہیں؟
اسلام میں اس کی جگہ غائبانہ نمازِ جنازہ کو مشروع قرار دیا گیا۔
فضیلۃ الشیخ حافظ علی عبداللہ حفظہ اللہ




