سوال 6685

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بچوں کو پیلیہ ہو جاتا ہـے تو وہ جھڑوایا جاتا ہـے، شرعی نکتہ نظر سے یہ عمل درست ہے یا نہیں اس کی وضاحت مطلوب ہے؟
جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ لوگوں میں ایک زبان زدِ عام جملہ ہے کہ “پیلیا جھڑوانا”۔ اصل بات یہ ہے کہ پیلیا ہو یا کوئی اور بیماری، اس کا علاج کتاب و سنت کے مطابق رقیہ کے ذریعے کیا جائے یا کروایا جائے، اور ساتھ ساتھ میڈیکل علاج بھی ضرور اختیار کیا جائے، جبکہ بھروسہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ پر رکھا جائے۔
لہذا جو لوگ پیلیا کو اتارتے، جھاڑتے یا اس پر دم کرتے ہیں، اگر یہ عمل قرآن و سنت کی دعاؤں اور اذکار کے ساتھ کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ دینِ اسلام کی رو سے وہی دم جائز ہے جس میں شرک نہ ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ قرآنی و مسنون رقیہ، علاج کے اسباب اختیار کرنا اور اللہ پر توکل یہ تینوں چیزیں اکٹھی ہوں تو اس طرح کے عمل درست اور جائز ہوتے ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ