سوال 6769
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ پر خدا کی سلامتی، برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں، میری دو بیٹیاں ہیں 15 اور 13 سال عمر ہے، سوال یہ ہے کہ ہم ایک پلاٹ خرید رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے کو وہ پلاٹ دونوں بیٹوں کو ملے اور کوئی حصہ دار نہ بنے، تو ایسی صورت میں شریعت کی رو سے کوئی صورت سکتی ہے، کیونکہ بیٹیاں ابھی چھوٹی ہیں ان کے نام پر بھی نہیں خریدا جا سکتا ہے۔
اور قانونی پیپر کے مطابق جو (Nominee) ہے، اگر اس میں بیوی اور دو بیٹیوں کے نام لکھے جائیں تو کیا والد کے بعد وہ پلاٹ ان تینوں کی ملکیت ہوگا یا والد کے رشتے دار بھی حصہ دار ہوں گے؟۔
اور اگر پلاٹ میاں بیوی دونوں اپنے نام کرواتے ہیں تو ایک کے بعد وہ پلاٹ قانونی اور شرعی طور پر دوسرے فریق کی مکمل ملکیت میں ہوگا یا پہلے فریق کے رشتہ دار شامل ہوں گے، اور اگر کسی وکیل کو قانونی رو سے شامل کیا جائے اور وصیت لکھوائی جائے کہ میاں بیوی کے بعد یہ پلاٹ دونوں بیٹوں کے نام ہوگا اور کوئی حصہ دار نہ ہوگا تو کیا یہ صحیح ہے؟ جزاك الله خيرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ تحریر کافی الجھی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جو کچھ سمجھ آئی ہے، اس کی روشنی میں جواب حاضر ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھیے گا کہ وارث کے حق میں وصیت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا اگر آپ وصیت کریں کہ میرے دنیا سے جانے کے بعد میری فلاں جائیداد میرے بیٹے کو ملے، میری بیٹی کو ملے، میری بیوی کو ملے تو یہ شرعی طور پر درست نہیں ہے۔ ایسی وصیت آپ کر ہی نہیں سکتے شرعی طور پر۔ ایک بات ہوگئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ فرما رہے ہیں کہ میں یہ جائیداد اپنے اور بیوی کے نام کروا دوں؟ جی نہیں، آپ صرف اور صرف اپنے نام کروائیں۔ اللہ کو بہتر پتا ہے کس نے دنیا سے پہلے چلے جانا ہے، لیکن قدرت کا ایک نظام ہے کہ والدین پہلے دنیا سے جاتے ہیں تو آپ کے دنیا سے جانے کے بعد شرعی طور پر وہ آپ کے بیٹوں اور بیٹیوں اور بیوی میں تقسیم ہو جائے گی۔ آپ کو اس کے لیے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اصل چیز یہ ہے، اس قسم کے سوالات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ہمیں شرعی مسائل کا علم نہیں ہوتا۔ تو شریعت کا اصول یہ ہے کہ جس کا پیسہ لگ رہا ہے وہ جائیداد اپنے نام پر خریدے۔ اس لیے کہ جب آپ نے کسی کے نام ایک چیز لگا دی تو قانونی طور پر وہ اس کی ہو گئی۔ اور ہمارا ایمان اب اس معیار کا نہیں رہا جس معیار کا اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہمارے دنیا سے جانے کے بعد بڑی ایمانداری کے ساتھ یہ کہا جائے کہ جناب یہ جائیداد بے شک نام میرے ہے لیکن ملکیت بزرگوں کی ہے لہٰذا یہ بطورِ وراثت ہی تقسیم ہوگی، ایسا معاملہ نہیں۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ آپ کو سمجھ آگئی ہوگی۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




