’’اے حُفّاظِ قرآن! رمضان میں تُم نے لوگوں کو قرآن سنایا، کیا ہی عمدہ عمل کیا، مساجد کے در ودیوار تمہاری تلاوت سے گونجتے رہے، کیا حسین ودلکش منظر بن گیا، تُم نے مصلی سنبھالا تو کتنے ہی دلوں کو تمہاری آواز سے جِلا ملی، کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی آیت کو پڑھتے ہوئے سماں بندھ گیا، پیچھے کھڑے کسی کے آنسو خشیت سے بہہ نکلے۔ اس لیے اللہ کے لیے اپنے مقام کو پہچان لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ پیچھے کھڑے ہونے والے آگے نکل جائیں اور تُم آگے ہونے کے باوجود پیچھے رہ جاؤ۔ رمضان چلا جائے تب بھی قرآن مجید سے تعلق لگائے رکھو، اس کی حرمات کا خیال کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ تمہیں پارسا خیال کریں اور تُم اپنی تنہائیوں میں رَب کی نافرمانیوں کی کالک اپنے منہ پر مَل لو۔‘‘
حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ



