”میں ایک طالب علم کو جانتا ہوں جو مدینہ آیا، اور اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ دن بھر مشایخ کے دروس میں بیٹھتا تھا، اور رات اندھیرا ہونے کے بعد کوڑے دانوں کا چکر لگاتا تھا کہ شاید آس پاس کوئی بچا ہوا کھانا چھوڑ گیا ہو۔ اس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا، نہ کسی سے سوال کیا، حتی کہ اس کے ساتھی بھی اس سے بے خبر تھے۔ ایک روز اس کے کسی ہم درس نے اسے کوڑے دان کے گرد دیکھ لیا تو مجھے اس کی حالت بتلائی … اس لیے میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ خدارا طلبۂ علم کی خبر گیری کیا کرو! ایک مسکین طالب علم پر خرچ کرنا کسی بھی دوسرے شخص پر خرچ کرنے سے بہتر ہے، طلبہ کے احوال کے بارے میں پوچھا کرو، اور ان کی ہر ممکن مدد کیا کرو۔“
(فضيلۃ الشیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ)



