العفوّ
’’جب آپ اللہ عزوجل کو اس کے کسی مبارک نام سے پکاریں، تو اس کے معنی پر غور و فکر کریں کیونکہ یہی قلبی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نام ’’العفوّ‘‘ کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ جو گناہ پر سزا نہیں دیتا، یعنی وہ گناہ کے نتیجے میں مرتب ہونے والے اثرات کو مٹا دیتا ہے۔ گناہ کی ایک سزا دنیا میں بھی ملتی ہے، جو بسا اوقات اللہ کی رحمت ہوتی ہے تاکہ بندہ آخرت کے عذاب سے بچ جائے۔ گناہ کی ایک سزا ’’حساب کا مناقشہ‘‘ بھی ہے، جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس کے حساب میں سوال کیا گیا، وہ ہلاک ہو گیا۔
ماضی کے صالحین اور زہد و تقویٰ والے لوگ اپنے گناہوں کی نحوست کا اثر اپنی سواری اور اپنی بیوی کے رویے میں محسوس کر لیا کرتے تھے. سلف صالحین میں سے کسی کا کہنا ہے کہ: ’’میں جب کوئی گناہ کرتا ہوں، تو اس کی نحوست اپنی بیوی کے برے اخلاق اور اپنی سواری کے بدلتے ہوئے رویے میں دیکھ لیتا ہوں۔‘‘ یہ وہ لوگ تھے جن کے گناہ کم تھے اس لیے وہ انہیں پہچان لیتے تھے، جبکہ ہمارے گناہ اتنے زیادہ ہیں کہ ہم صرف کبیرہ گناہوں کو ہی شمار نہیں کر سکتے۔ لہٰذا، جب آپ ’’یا عَفُوّ‘‘ کہتے ہیں، تو یہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالی گناہوں کے تمام اثرات کو معاف کر دیتا ہے، نہ ان پر سزا دیتا ہے اور نہ ہی ان کی نحوست باقی رہنے دیتا ہے۔
’’العفوّ‘‘ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جو گناہ کو مکمل طور پر مٹا دے، بالکل اسی طرح جیسے تیز ہوا چلنے والے کے قدموں کے نشانات مٹا دیتی ہے۔ اس طرح بندے کے نامہ اعمال میں ان گناہوں کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا، اور یہ اللہ کا عظیم فضل ہے۔
قیامت کے دن ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔جن کا حساب ہوگا وہ دو طرح کے لوگ ہوں گے:
1۔ کفار: جن کے حساب میں جرح و بحث اور مناقشہ ہوگا، اور یہ سخت ترین عذاب ہے۔
2۔ مومنین و مسلمین: ان کے حساب میں جرح نہیں ہوگی بلکہ انہیں صرف ان کے گناہوں کا اعتراف کرایا جائے گا کہ ’’تم نے فلاں وقت یہ عمل کیا تھا۔‘‘
اگرچہ گناہ درج ہوتے ہیں اور قیامت کے دن سامنے لائے جائیں گے، لیکن اللہ عزوجل کا ’’عفو‘‘ یہ ہے کہ وہ ان گناہوں کو مٹا دیتا ہے تاکہ ان کا کوئی اثر باقی نہ رہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص قیامت کے دن اپنے گناہوں کو تہامہ کے پہاڑوں کی طرح عظیم دیکھے گا، پھر اسے بتایا جائے گا کہ یہ تمہارے گناہ ہیں لیکن ان کے مقابلے میں اللہ کا عفو و کرم بھی موجود ہے۔
(شیخ عبد السلام الشویعر حفظه الله | مقطع: معنى اسم الله تبارك وتعالى، العفو)
حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ



