اذانِ فجر سے پہلے کھانا پینا ترک کریں

وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ

اور کھاؤ پیو حتیٰ کہ تمہارے لیے فجر کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے واضح ہو جائے۔

[سورة البقرہ:187]

رسول اللہ ﷺ کے دور میں دو اذانیں ہوا کرتی تھیں۔ پہلی اذان فجر سے پہلے دی جاتی تھی، اسی کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی اپنی ضرورت پوری کر لے؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’تم میں سے جب کوئی اذان ( فجر ) سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے رکھے نہیں بلکہ اپنی ضرورت پوری کر لے“۔

[سنن ابو داود:2350]

لیکن جب اذانِ فجر (فجرِ صادق) ہو جائے تو کھانا اور پینا فوراً بند کر دینا چاہیے۔ اگر اس وقت ہاتھ میں نوالہ یا پانی ہو تو بھی مزید کچھ لینا درست نہیں، کیونکہ روزے کا وقت شروع ہو چکا ہوتا ہے: جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”بلال تو رات رہے اذان دیتے ہیں ۔ اس لیے تم لوگ کھاتے پیتے رہو ، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں“۔

[صحیح البخاری:617]

گویا پہلی اذان تنبیہ کے لیے تھی، جبکہ دوسری اذان فجر کے آغاز کی علامت تھی۔ لہٰذا جیسے ہی (اذان فجر) فجرِ صادق ہو جائے، سحری ختم کر دینی چاہیے۔واللہ اعلم