دورانِ تلاوت گفتگو
⇚ نافع رحمہ اللہ کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
“كَانَ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ كَرِهَ أَنْ يَتَكَلَّمَ.”
’’آپ رضی اللہ عنہ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو اُس دوران بات کرنا ناپسند کرتے تھے۔‘‘
(صحیح البخاري: ٤٥٢٦، مصنف ابن أبي شيبة: ٧/ ١١٩ واللفظ له)
⇚ عبد اللہ بن عون بیان کرتے ہیں:
“كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ أَنْ يَقْرَأَ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ، إِلَّا كَمَا أُنْزِلَ؛ يَكْرَهُ أَنْ يَقْرَأَ، ثُمَّ يَتَكَلَّمَ، ثُمَّ يَقْرَأَ.”
’’امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ (١١٠هـ) پسند کرتے تھے کہ قرآن مجید کو اسی طرح تلاوت کیا جائے، جیسے یہ نازل ہوا ہے۔ وہ ناپسند کرتے تھے کہ بندہ قرآن پڑھے، پھر درمیان میں بات کرے، پھر پڑھنا شروع کر دے۔‘‘
(فضائل القرآن لأبي عبيد، صـ ١٩٠ وسنده صحیح)
حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ



