حجاج کی مخالفت اسلام کی مخالفت ہے!

حجاج بن یوسف الثقفی کا ظلم و ستم ایک مسلمہ امر اور ضرب المثل رہا، لیکن اس کے باوجود تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ بعض لوگوں نے حجاج بن یوسف الثقفی کو کفر واسلام کے درمیان معیار بنا لیا تھا، منذر ابو حسان نامی ایک راوی ہیں، ان کے بارے میں اہل علم نے لکھا ہے:

«كَانَ حجاجيا يَقُول ‌من ‌خَالف ‌الْحجَّاج ‌فقد ‌خَالف الْإِسْلَام». [الثقات لابن حبان: 5/ 421 وانظر:مسند أحمد: 33/ 315 ط الرسالة]

’یہ حجاجی تھا، کیونکہ اس کا موقف تھا، جس نے حجاج کی مخالفت کی اس نے اسلام کی مخالفت کی’۔
حکمرانوں کی اطاعت میں غلو اور ان کے ظلم و ستم کے دفاع میں اسلام کا سہارا لینے کی بھی یہ ایک بدترین مثال ہے، عصر حاضر میں جس طرح حجاجی موجود ہیں، اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اپنے اپنے ’حجاجوں’ کی پرستش کرنے والے موجود ہیں۔