﴿وَمَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهُ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴾.
’’اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر تجھے غم میں نہ ڈالے، ہماری ہی طرف ان کا لوگ ٹ کر آنا ہے، پھر ہم انھیں بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا۔ بے شک اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے‘‘۔
[سورة لقمان: 23]
اس آیت میں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ جنہیں اپنے کفر پر اصرار ہے، ان کے کفر کا آپ غم نہ کیجیے، انہیں بہرحال ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے اور ہم انہیں ان کے برے اعمال کی خبر دیں گے اور انہیں ان کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
پھر فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تو یقیناً دلوں کے راز تک جانتے ہیں‘‘۔
اس اختتام کی مناسبت مفسرین نے تین طرح بیان کی ہے:
1۔ ان کفار کے کفر کی وجہ سے آپ کے دل میں جو تکلیف وغمزدگی ہوتی ہے، اللہ تعالی کو یقیناً اس کی خبر ہے۔
2۔ آپ تو اعلانیہ وظاہری کفر کرنے والوں کی وجہ سے رنجیدہ وکبیدہ خاطر ہوجاتے ہیں، جبکہ اللہ تعالی تو باطن میں کفر چھپانے والوں سے بھی باخبر ہے، جن کا معلوم نہ ہونا آپ کے لیے رحمت وشفقت ہے۔
3۔ یہ جو کفر کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں پوشیدہ باتوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اس لئے حساب بہت ہی دقیق اور جزا و سزا کا معاملہ بالکل عادلانہ ہوگا۔
واللہ أعلم
حافظ محمد طاهر حفظہ اللہ