امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (٢٤١هـ) فرماتے ہیں:
’’مجھے خلقِ قرآن کی آزمائش کے دوران سب سے ڈھارس بندھانے والی نصیحت ایک دیہاتی نے کی، کہنے لگا: اے احمد! اگر حق پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے قتل کر دیے گئے تو شہادت کی موت پائیں گے اور اگر زندہ رہے تو عزت والی قابلِ تعریف زندگی گزاریں گے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بات سے میرے دل کو بڑی تسلی ملی۔‘‘
امام ابو حاتم رحمہ اللہ (٢٧١هـ) فرماتے ہیں:
’’اور بالکل ویسا ہی ہوا جیسا اس دیہاتی نے کہا تھا؛ اس کڑی آزمائش سے گزرنے کے بعد اللہ تعالی نے امام احمد رحمہ اللہ کا مقام و مرتبہ بہت بلند کر دیا، لوگوں کے دلوں میں ان کی بے پناہ عظمت قائم ہو گئی اور ان کا رتبہ انتہائی بلند ہو گیا۔‘‘
(مناقب أحمد لابن الجوزي، صـ: ٤٢٢)



