’’اب تو ایسے لگتا ہے کہ لفظ ’’موت‘‘ ہمارے دلوں سے اپنا حقیقی مفہوم کھو چکا ہے۔ ہم روز اسے دیکھتے ہیں، اس کا سامنا کرتے ہیں، اس پر گفتگو کرتے ہیں، اس سے رنجیدہ ہوتے ہیں، اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر غمگین بھی ہوتے ہیں، مگر پھر بھی یہ ہماری روحوں کو چھوتا نہیں، ہمارے دلوں پر کوئی گہرا اثر نہیں چھوڑتا۔
کیونکہ جو شخص موت پر سچا یقین رکھتا ہے، وہ لازماً ایسا عمل کرتا ہے جیسے وہ عنقریب مرنے والا ہو۔ اور جو شخص ایسے یقین کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، وہ دنیا کی آسائشوں اور مال و دولت کو صرف ایک راہ کے مناظر کی طرح دیکھتا ہے، گزرگاہ کی چیزیں، جنہیں وہ جانتا ہے کہ تھوڑی دیر میں پیچھے چھوڑ کر اپنے اصل ٹھکانے اور دائمی منزل کی طرف بڑھ جانا ہے۔‘‘

… حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ