بسم الله الرحمن الرحيم

نیک اعمال اور ان پر ملنے والی خوشخبریاں

قرآن کی تلاوت کرنے سے سکینت و رحمت نازل ہونا

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ تَعَالَى يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اس کا درس و مذاکرہ کرتے ہیں تو،
• ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،
• رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے،
• فرشتے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں،
• اور اللہ عزوجل ان کا ذکر ان میں کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں (یعنی مقرب فرشتوں میں)۔

[سنن أبي داود: 1455] صحیح