’’قزع سے ممانعت‘‘

سر کے کچھ بال مونڈ لینا اور کچھ چھوڑ دینا ممنوع ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

«أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ نَهَى عَنِ الْقَزَعِ».

’’رسول اللہ ﷺ نے ’’قزع‘‘ سے منع فرمایا ہے۔‘‘
عمرو بن نافع کہتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: قزع کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا:
’’بچے کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جائے اور کچھ چھوڑ دیا جائے۔‘‘
(صحیح البخاري: ٥٩٢١، صحیح مسلم: ٢١٢٠ واللفظ له)
آج کل ایسی کٹنگ کا عام رواج ہے کہ سر کے پچھلے حصے گُدی سے بالوں کو بالکل مونڈ کر اوپر والے حصے پر بال چھوڑ دیے جاتے ہیں، یہ درست نہیں۔
بلکہ یہ اصلا مُخَنّثین (ہیجڑوں) کا طریقہ ہوا کرتا تھا جو اب ہمارے ہاں عام ہوچکا ہے۔
جیسا کہ امام ابو عوانہ الیشکری رحمہ اللہ (١٧٦هـ) بیان کرتے ہیں:
’’میں نے بصرہ میں لوگوں کو دیکھا ہے کہ صرف مخنث ہی اپنی گُدی منڈوایا کرتے تھے۔‘‘
(جزء المؤمل، صـ ١١٦ وسنده حسن)

 حافظ محمد طاھر