بسم الله الرحمن الرحيم

رمضان کے روزوں کی فرضیت

عَنْ طَلْحةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصِّيَامِ فَقَالَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الزَّكَاةِ فَقَالَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ۔

طلحہ بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے آگاہ کیجئے کہ اللہ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
• تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانچ نمازیں۔ یہ اور بات ہے کہ تم اپنی خوشی سے نفل پڑھ لو۔
• پھر اس نے پوچھا بتائیے اللہ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟
• تو آپ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے ، یہ اور بات ہے کہ تم اپنی خوشی سے نفلی روزے بھی رکھ لو۔
• پھر اس نے پوچھا: اور بتائیے اللہ نے مجھ پر زکوٰۃ کس طرح فرض کی ہے؟
• پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے اسلام کے احکام سے آگاہ فرمایا۔
• اس (اعرابی) نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی! اللہ نے جو مجھ پر فرض کر دیا ہے میں اس میں سے نہ کچھ بڑھاؤں گا اور نہ ہی گھٹاؤں گا۔
• اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو فلاح پاگیا یا فرمایا کہ اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں جائے گا۔

[صحیح البخاری:1891]