رمضان میں تلاوتِ قرآن
✿۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ﴾.
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والے واضح دلائل موجود ہیں۔‘‘
[البقرة ١٨٥]
⇚ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (٧٧٤هـ) فرماتے ہیں:
“لِهَذَا يُسْتَحَبُّ إِكْثَارُ تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ؛ لِأَنَّهُ ابْتُدِئَ نُزُولُهُ فِيهِ؛ وَلِهَذَا كَانَ جِبْرِيلُ يُعَارِضُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ في كُلِّ سَنَةٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ فِي السَّنَةِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا عَارَضَهُ بِهِ مَرَّتَيْنِ تَأْكِيدًا وَتَثْبِيتًا.”
’’اسی لیے ماہِ رمضان میں قرآنِ کریم کی بکثرت تلاوت کرنا مستحب ہے، کیونکہ اسی میں اس کا نزول شروع ہوا، اور اسی وجہ سے جبریل علیہ السلام ہر سال رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کا دَور کیا کرتے تھے۔ پھر جس سال رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اس سال جبریل علیہ السلام نے اس کی تاکید اور تثبیت کے لیے دو مرتبہ دَور کیا۔‘‘ (فضائل القرآن، صـ : ٣٧)
…حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ




