ظاہری کامیابی یا ناکامی دینی تحریکوں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اس کا مدارِ عمل خالص نیت اور صحیح طریقِ کار پر ہے۔ اگر کسی تحریک میں یہ چیزیں موجود ہیں تو ظاہری ناکامی کے باوجود بھی وہ کامیاب ہے اور اس کے برعکس صورت میں ظاہری کامیابی بھی عند اللہ کامیابی متصور نہیں ہوگی۔
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ
تحریکِ جہاد، جماعت اہل حدیث اور علماے احناف، ص 82، 83




