سوال (6459)

پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے، یہ بات درست ہے؟

جواب

یہ ثابت ہے۔
صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان
باب: اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان

حدیث نمبر: 455 قَالَ مُسْلِم قَرَأْتُ عَلَی عِيسَی بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ وَقُلْتُ لَهُ أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْکَ أَنَّکَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ نَعَمْ قُلْتُ لِعِيسَی بْنِ حَمَّادٍ أَخْبَرَکُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَی رَبَّنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا کَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ قُلْنَا لَا وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّی انْقَضَی آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ فَيُقَالُ لَهُمْ لَکُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنْ الشَّعْرَةِ وَأَحَدُّ مِنْ السَّيْفِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ وَمَا بَعْدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ،

ترجمہ: رسول کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب دن صاف ہو تو کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دشورای آتی ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں اور باقی حدیث اسی طرح ہے لیکن اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا جنہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ہوگا تو ان سے اللہ فرمائے گا کہ جنت میں جو کچھ تم نے دیکھا وہ بھی لے لو اور اس جیسا اتنا اور بھی لے لو حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ تک نبی ﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ پل صراط بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہوگا اور لیث کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں وہ کچھ دیا جو تمام جہاں والوں کو نہیں دیا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ