سوال (2874)

ایک انسان کے فوت ہونے کے بعد قبر میں چلا جائے گا اور جنت جہنم کا فیصلہ بھی ہو جائے گا اور پھر قیامت بھی قائم ہو جائے گی، حساب تو پہلے ہو چکا ہے اب دوبارہ عدالت پھر کس چیز کا فیصلہ ہوگا؟

جواب

کسی نے بذات خود یہ بات سمجھ لی ہو کہ بندہ مرگیا ہے، قبر میں چلا گیا ہے، حساب و کتاب ہوگیا ہے، جنت و جھنم ہوگئی ہے، بات ختم ہوگئی ہے، ایسا نہیں ہے، یہ اس کا اپنا فہم ہوسکتا ہے، جو کہ غلط ہے، مبنی برخطا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ جو سوال ہوتے ہیں آپ کا رب کون ہے، آپ کا دین کونسا ہے، آپ کا نبی کون ہے، یہ ایک ٹیسٹ پیپر ہے، اس کے بعد کھڑکیاں کھول دی جائیں گی، یہ کلی طور پہ نہ جنت ہے اور نہ جھنم ہے، باقی جو کچھ ثواب یعنی بدلہ جو جنت سے مومنین کو بتایا گیا ہے، وہ کچھ بھی اعلی درجے کا ہوگا، باقی جو کچھ عذاب مجرمین کو جھنم سے بتایا گیا ہے، وہ بھی خطرناک ہوگا، پھر قیامت کو یوم الحساب اور یوم الدین کہا گیا ہے، وہاں فیصلے ہونگے، بڑے پیمانے پر چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی فیصلے ہونگے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَه ۞ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه۞ [سورة الزلزال : 7,8]

«تو جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔ اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا»
قیامت کے دن کلی عدالت ہے، باقی قبر میں جزوی عدالت ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ