سوال (4535)

شیخ محترم قبر پر دوران تدفین سورۃ ملک اور سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھتے ہیں اور تین بار مٹی ڈالتے ہیں قرآن کریم کی ایک آیت پڑھ کر

“منها خلقناکم و فیها نعیدکم”

اس بارے رہنمائی کریں۔

جواب

قبرستان میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے جتنی بھی روایات پیش کی جاتی ہیں، میت کے سراہنے، پیروں کے پاس یا تدفین کے وقت وغیرہ، وہ تمام روایات پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتی ہیں، “منها خلقناکم” والی روایت ضعیف ہے، البتہ تین چلو مٹی ڈالنا یہ روایت ثابت ہے، بسم اللہ پڑھ کر مٹی ڈال دے، البتہ تلاوت صحیح روایات سے ثابت نہیں ہے، صحیح مسلم کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ قبرستان میں قرآن نہیں پڑھنا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں سورۃ البقرہ پڑھا کرو، گھروں کو قبرستان نہیں بناؤ، اس روایت سے معلوم ہوا ہے کہ قبرستان میں قرآن نہیں پڑھنا چاہیے، باقی بطور دعا کہ قرآنی دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ محترم ویسے بھی زیارت قبور پر جائیں تو سورۃ ملک پڑھ سکتے ہیں۔
جواب:قبرستان میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کوئی بھی صحیح روایت ثابت نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں سورۃ البقرہ پڑھا کرو، گھروں کو قبرستان نہیں بناؤ، اس روایت سے معلوم ہوا ہے کہ قبرستان میں قرآن نہیں پڑھنا چاہیے، فتویٰ اس پر دیا جاتا ہے کہ قبرستان میں قرآن نہیں پڑھنا چاہیے، بطور دعا کوئی کلمہ آ سکتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: قبر پر کھڑے ہو کر جو قرآن پڑھا جاتا ہے، سورۃ بقرہ کی اخری ابتدائی آیات دعا سے پہلے کیا یہ ثابت نہیں تو جو پڑھتے، ان کی کیا دلیل اور کس درجہ کا اختلاف ہے، یہ اگر کوئی جنازے پر بول دے تو کیا کریں، پھر وہاں اس حالت میں منع ممکن نہیں ہوتا ہے۔

جواب: صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“گھر میں قرآن پڑھا کرو، اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناو۔”

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قبرستان میں قرآن نہیں پڑھا جائے گا، اسی لیے نبی ﷺ نے گھروں میں تلاوت کی ترغیب دی اور قبرستان کو اس سے تشبیہ دی جہاں قرآن نہیں پڑھا جاتا۔

اب جو دلائل دیے جاتے ہیں کہ قبر پر سورۃ یٰسین یا سورۃ بقرہ وغیرہ پڑھی جائے، یا سرہانے یا پاؤں کی طرف کھڑے ہو کر قرآن پڑھا جائے، تو یہ سب روایات ضعیف ہیں، ان میں سے کوئی بھی روایت صحیح سند سے ثابت نہیں، اگر کوئی میت کے قریب قرآن پڑھنے کی تلقین کرتا ہے، تو یاد رکھیں کہ یہ نبی ﷺ سے ثابت نہیں، میت کے لیے دعا کرنا جائز ہے، اس پر کوئی اختلاف نہیں، البتہ اگر کوئی شخص لاعلمی کی وجہ سے قرآن خوانی کی خواہش کرے، تو بہتر ہے کہ نرمی سے سمجھایا جائے کہ:

“قرآن کا ثواب پہنچانے کے لیے تلاوت کرنا شریعت سے ثابت نہیں، البتہ آپ دعا کریں، وہ جائز اور مسنون ہے۔”

اس معاملے میں لمبی بحث کی ضرورت نہیں،

بلکہ نرمی اور حکمت سے بات سمجھا دینا کافی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ