سوال (4221)

قبر پر نام کی تختی لگانا کیسا ہے؟

جواب

قبر پر کچھ لکھنا یعنی نام کی تختی لگانا جائز نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر لکھنے سے منع فرمایا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: کیا قبر پر تاریخ اور نام لکھنا جائز ہے؟

جواب: قبر میں تختی لگانا جائز نہیں ہے، کیوں جائز نہیں ہے، اس لیے کہ شریعت میں قبر کا تصور یہ ہے کہ قبر سادی ہو، ہم قبرستان جاتے نہیں ہیں، اس لیے ہم تختی لگاتے ہیں کہ پتا چلے کہ یہ ہمارے بزرگ ہیں، ہمیں قبرستان جانا چاہیے، قبروں کو دیکھ کر درست کرنا چاہیے، ہم خود جاتے نہیں، شریعت کو تبدیل کرتے ہیں۔

فضیلۃ الشیخ الرزاق زاہد حفظہ اللہ

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
قبر پر نام لکھنا کیسا عمل ہے، یہ تھوڑا زیادہ رواج بنتا جا رہا ہے، کچی قبر پر بھی نام لکھتے ہیں بعض لوگ۔ دوسرا بعض جگہ قبر پر اینٹیں لگانی پڑتی ہیں، قبر تیار کرتے وقت ورنہ گر جاتی ہیں، اینٹیں لگا سکتے ہیں اندر دیواروں پر اور بند کرتے ہوئے؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قبر پر نام لکھنا یا تختی لگا کر لکھنا دونوں صورتیں ناجائز ہیں۔

“نهى رسول الله ﷺاَنْ یکتب علی القبر”

یعنی قبر پر لکھنے سے منع فرمایا گیا، اور یہ بات واضح طور پر ختم ہو گئی۔ کوئی صورت بھی صحیح نہیں ہے۔ قبر کی پہچان کے لیے بس ایک سادہ پتھر سرہانے کے پاس رکھنا سنت ہے، بس یہی کافی ہے۔
اگر قبر کی مٹی محفوظ نہیں رہتی اور سنبھل نہیں رہی، تو اندر کچی اینٹیں لگانا جائز ہے۔ بند کرتے ہوئے بھی اگر کچی اینٹیں لگائی جائیں تو ٹھیک ہے، یہ ضرورت کے مطابق ہے۔
ورنہ، قبر کو عام طریقے سے بنایا جائے، بند کیا جائے اور سلیپیں رکھ دی جائیں، جیسے نارمل قبر میں کیا جاتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ