سوال     6635

السلام علیکم و رحمۃ اللہ!
ایک شخص ساری زندگی قبر پرستی میں مبتلا رہا ہے اور اس نے مرتے وقت کلمہ بھی پڑھا۔ کیا ایسے شخص پہ
من کان آخر کلامہ لا الہ الااللہ۔۔۔ دخل الجنہ۔۔ کا اطلاق ہو گا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بسا اوقات مشاہدہ میں آتا ہے کہ بعض غیر مسلم بھی کلمہ طیبہ کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ دن میں کئی مرتبہ پڑھتے ہیں۔ محض اس ظاہری عمل سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مسلمان شمار ہو جائیں، جب تک ایمان علم، یقین اور قبولیت کے ساتھ ثابت نہ ہو۔
صحیح مسلم میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے:

«مَنْ كَانَ آخِرَ كَلَامِهِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

اور ایک روایت میں ہے:

«مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

یعنی: جو اس حال میں فوت ہوا کہ وہ علم کے ساتھ جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
یہاں علم بنیادی شرط ہے، محض الفاظ کا دہرانا کافی نہیں۔ نیز یہ کلمہ اگر غرغرہ (موت کی آخری ہچکی) سے پہلے ایمان و شعور کے ساتھ کہا جائے تو نافع ہو سکتا ہے، ورنہ محض رسمی ادائیگی شمار ہوگی۔
اہلِ علم نے کلمہ توحید کی سات شرطیں بیان کی ہیں، جیسے: علم، یقین، قبولیت، انقیاد، صدق، اخلاص، محبت یہی اس کی حقیقت ہے۔
البتہ ایسے معاملات میں نہ تو منبر و محراب سے کسی پر قطعی فتویٰ صادر کیا جائے جو فتنہ کا باعث بنے، اور نہ ہی اس قدر بے محل اظہار ہمدردی کیا جائے کہ عقائد و اصول بالائے طاق رکھ کر بلا تحقیق دعائے مغفرت شروع کر دی جائے۔
شرعی توازن، احتیاط اور حکمت کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ