سوال 6979

السلام علیکم مشاٸخ کرام
قیصر نام رکھنا کیسا ہے؟ اگر درست نہیں ہے تو اس کی کیا قباحت جس وجہ سے درست نہیں؟

جواب

قیصر نام رکھا جا سکتا ہے۔ عمومی طور پہ جو رومی بادشاہ اور ایرانی بادشاہ اور یعنی آتش پرست بادشاہ اور اس طرح کے جو نام آتے ہیں اس پہ اہل علم نے کراہیت کا فتوی دیا ہے۔ تو شاید اس پہ بھی کوئی بات ہو، لیکن لغوی اعتبار سے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، معنوی اعتبار سے۔ تو کوئی سختی ان شاءاللہ نہیں ہے اس پہ۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

دورِ جاہلیت میں روم کے بادشاہ کا نام یا لقب قیصر تھا اور اس کی طرف رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دعوتِ اسلام پہنچانے کے لیے خط بھیجا تھا، لیکن اس کی بدقسمتی کہ اسلام کی حقانیت آشکار ہونے اور سمجھنے کے باوجود ہدایت سے محروم رہا جس کی تفصیلات کتب احادیث و سیرت میں موجود ہیں،
اگرچہ یہ نام بہت سے لوگ رکھتے ہیں لیکن صحابہ کرام اور اس کے بعد محدثین کرام و علماء عظام نے اس سے گریز ہی کیا ہے جس کی وجہ غالباً یہی ہو سکتی ہے کہ ایک کافر بادشاہ کے لقب یا نام کو اختیار کرنا ضروری نہیں جبکہ اس سے بہتر نام اور بہترین نسبتیں موجود ہیں،

فضیلۃ الباحث طارق رشید وہاڑی حفظہ اللہ

سکندر مقدونی کے بعد بادشاہوں کا ایک سلسلہ تھا جن کا لقب قیصر یا سیزر تھا۔ سکندر کی بادشاہت قیصروں کو منتقل ہوئی تھی۔ سکندر تو مشرک تھا جبکہ قیصر بعد میں الله کے رسول حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئے تھے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قیصر نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ پرویز، فرعون، ہامان اور قارون جیسے نام نہ رکھے جائیں جن کے کفر اور ظلم و جبر کی وضاحت آ گئی ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ قمر حسن حفظہ اللہ