سوال 6637
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰه و برکاتہ
قانون توہین شخصی کے تحت ہتک عزت کا جرمانہ لینا شرعاً کیسا ہے۔
مثلاً کوئی شخص کسی کو سوشل میڈیا کے ذریعے ویڈیو بناکر غلط الزامات وغیرہ لگا کر بدنام کرتا ہے شئیر کرتا ہے،اب متاثرہ فرد عدالت میں جا کر اس بدنام کرنے والے کے خلاف ایک کروڑ ہر جانے کا دعوی کرتا ہے اور عدالت اس کے حق میں فیصلہ کر دیتی ہے مدعی کو ہرجانہ مل جاتا ہے تو کیا یہ آمدنی حلال ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
عام طور پر فقہائے کرام کی ایک بڑی تعداد کا موقف یہ ہے کہ ایسا مالی جرمانہ جس پر شریعت میں کوئی صریح نص موجود نہ ہو، اس کا جواز نہیں۔ اسی بنا پر اکثر اہلِ علم بلا دلیل شرعی مالی سزا کو ناپسند کرتے ہیں۔
تاہم بعض جلیل القدر علماء، بالخصوص شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، مالی جرمانے کے جواز کے قائل رہے ہیں، اور ہمارے بعض مشائخ نے بھی اسی رائے کی تائید کی ہے۔
اسی اصول کی روشنی میں اگر بچوں یا طلبہ پر لیٹ فیس، حاضری کی کمی یا نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے جرمانہ عائد کیا جائے، تو اسے تعزیری مقصد اور اصلاح کے لیے قیاساً جائز کہا جا سکتا ہے۔ خصوصاً اس صورت میں جب اسلامی نظام عدل نافذ نہ ہو، اور رائج قانون ہی مالی جرمانے کا متقاضی ہو، تو ایسے جرمانے کی گنجائش نکلتی ہے۔
البتہ جہاں مکمل اسلامی نظام قائم ہو وہاں اصل طریقہ تعزیری سزا ہی ہے، مالی جرمانہ بنیادی اصول نہیں بلکہ ضرورت اور مصلحت کے تحت اختیار کیا جاتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




