سوال 6994

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخ محترم ایک شخص جو بیرون ملک رہتا ہے، اس کی اولاد بھی اس کے ساتھ ہی رہتی ہے، جبکہ رشتہ دار پاکستان میں ہیں، اب زکوٰۃ کا موقع آتا ہے یا قربانی کا تو وہ زکوٰۃ اور قربانی فلسطین بھیج دیتا ہے، جبکہ اس کے اپنے قریبی رشتہ داروں میں بہت سے مساکین یتیم گھرانے ہیں، جن کو ان پیسوں کی زیادہ ضرورت ہے، کیا اس کی زکوٰۃ اور صدقات اور قربانی شرعی اعتبار سے درست ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
زکوٰۃ کا اصول یہی ہے کہ ایک علاقہ کے اغنیاء کی زکوٰۃ اسی علاقہ کے فقراء، مساکین مستحقین تک پہنچا دی جائے۔
[ صحیح البخاری: 1496]
قرابت دار رشتہ دار تو اہل علاقہ سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔
کسی شخص کا اپنے رشتہ داروں کو چھوڑ کر بیرون ممالک زکوٰۃ وغیرہ بھیجنا یہ غلط ہے۔ ممکن ہے ایسے لوگوں کے صدقات اللہ قبول نہ کرے۔
باقی اپنے رشتہ داروں، اہل علاقہ مستحقین کو دے کر باقی کی رقم کا حصہ کسی دوسرے ملک آفت زدہ، مظلوم اہل توحید مسلمانوں کی مدد کے لیے بھیج سکتے ہیں معتبر ذرائع سے۔ لاحرج
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ