سوال 6931
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
زکوۃ کا ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص جس کا جنرل سٹور ہے، دکان کرائے کی ہے، دکان پر جو مال ہے وہ بھی قرضے کا ہے، نیز اس کے علاوہ بھی 10 12 لاکھ کا قرضہ ہے ۔ اس دکان سے وہ اپنے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں، فیملی کی ضروریات مل جل کر گھر والوں کے ساتھ پوری ہو جاتی ہیں کیونکہ رہائش والدین کے ساتھ ہے۔ لیکن کچھ سیو نہیں کر پاتے کہ قرضوں کی ادائیگی کر سکے۔ معلوم یہ کرنا ہےکہ ان صاحب کے اوپر زکوۃ لگتی ہے یا نہیں اور اگر زکوۃ ان صاحب کو دی جا سکتی ہے تو کیا یہ ان کو پابند کرنا ضروری ہے کہ وہ قرض کی ادائیگی کے لیے ہی زکوۃ کے پیسے خرچ کریں یا کسی بھی مد میں وہ خرچ کر سکتے ہیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ذاتی کاروباری آدمی ہیں، مکان اپنا ہے، سواری بھی ہوگی یقیناً۔ تو اگر کچھ اور وسائل نہیں ہیں، قرض ادا کرنے کے لیے اور قرض بھی انہوں نے جائز معاملات میں لیا تھا پھر اتفاق سے وہ گٹھ ان کی پھنس گئی یا پریشانی میں آگئے اور گردن ان کی جکڑی گئی۔ تو پھر تو الغارمین زکوۃ کی ایک مد ہے، مقروض لوگوں کے قرضے ادا کرنا۔ تو پھر وہ تخصیص کر دی جائے تو اچھا ہے کہ بھئی یہ قرضے کی مد میں ہم آپ کو دے رہے ہیں اور یہ آپ نے اتارنا ہے، اپنی گردن آپ نے آزاد کروانی ہے اس کے ذریعے۔ تو یہ اچھا ہو جائے گا ان کو سمجھا کے دیا جائے تو اگر کوئی اور صورت نہ ہو تو پھر یہ صورت جائز ہے، اس میں کوئی حرج والی بات دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن یہ دیکھ لیا جائے کہ کہیں وہ اپنی چادر سے باہر تو نہیں ہیں؟ خواہشات کے پیروکار تو نہیں ہیں؟ ضروریات کے نام پہ خواہشات کا دروازہ تو نہیں کھولا ہوا؟ ساری چیزیں دیکھ لی جائیں تو بہرحال یہ ایک مد موجود ہے کہ مقروض کا قرضہ ادا کیا جا سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



