سوال 6893
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص پہ قرض بھی ہے اور اسکا مال نصاب کو پہنچ رہا ہے۔ اب اگر وہ قرض نکالتا ادا کرتا ہے تو نصاب مکمل نہیں ہوتا۔ ایسے میں وہ شخص کیا کرے پہلے زکوۃ دے یا قرض؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ظاہر سے نصاب کو پہنچ کر سال گزر چکا ہے تو اس وقت قرض کیوں نہ دیا اب زکوۃ کی ادائیگی کے وقت قرض سامنے آ گیا۔
ہر شخص ہی کسی نہ کسی طرح مقروض ہے، لیکن اگر وہ زکوۃ دینے والا بن گیا ہے تو وہ اب دے کیونکہ فرض کے درجہ میں آ گیا ہے۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
پہلے زکاة دے دیں۔ ان شاءاللہ اللّہ تعالیٰ اس فرض کی ادائیگی کی خیر کی برکت سے اللہ تعالیٰ آپ کے قرض اتارنے میں بھی مدد کریں گے۔
باقی واللّٰہ أعلم۔
فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ
اگر اور وسائل نہیں ہیں قرض اتارنے کے تو پہلے زکوٰۃ کے مال میں سے قرض کو نکالا جائے گا۔ پھر جو مال بچے گا، اگر وہ نصاب کو پہنچتا ہے تو پھر زکوٰۃ دی جائے گی۔
عمومی طور پر لوگوں کے پاس دیگر اشیاء ہوتی ہیں، لیکن وہ ایسے موقع پر، واللہ اعلم، کوئی حیلہ کرنا چاہتے ہیں۔ دلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے، لیکن واللہ اعلم وہ کیوں اس طرح معاملات کو الجھا دیتے ہیں اور مسکین بن کر پھر سوال پوچھ لیتے ہیں۔
بہرحال، اصل معیار یہی ہے کہ قرض واقعی ادا کرنا مقصود ہو اور وسائل حقیقتاً موجود نہ ہوں تو قرض پہلے منہا ہوگا، پھر بچے ہوئے مال پر نصاب کے مطابق زکوٰۃ کا حکم لگے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




