سوال 6920
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جی شیخ محترم سوال پوچھنا تھا کہ میں نے اپنے ایک رشتے دار کو قرض دیا تھا، وہ واپس نہیں کر رہا تو میں نے زکوٰۃ فطرانہ ادا کرنا ہے، تو کیا ایسی صورت میں قرض کے پیسوں سے زکوٰۃ فطرانہ ادا ہو جائے گا؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ اپنے ڈوبے ہوئے پیسے کو زکوٰۃ میں شمار نہیں کر سکتے۔ زکوٰۃ آپ کو الگ سے نکالنا ہوگی۔ پیسہ ڈوب گیا تو اللہ کے پیسے کو نہ ڈبوئیں۔ اپنا پیسہ بچانے کے لیے اللہ کے پیسے کو برباد نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو برکت دے۔ آپ علیحدہ سے اپنی زکوٰۃ اور فطرہ کو ادا کریں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



