سوال         6788

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم اگر صاحب مقروض ہے اور دین کا کام بھی کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے مزید پیسے ادھار لے اور پھر اگر وہ یہ اپیل کرے کہ اگر کوئی ساتھ مل کر میرا قرض ادا کردیں یا کچھ تھوڑے تھوڑے پیسے ملا کر قرض کا کچھ حصہ ادا کردیں۔
تو کیا اپیل کرنا درست ہوگا یا نہیں۔ کیا اس سے مانگنے والا یا سفید پوش نہ رہنے کا کوئی مطلب بنتا ہے کیا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، اگر کوئی شخص مقروض ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے قرضہ اتارنے کی فکر کرنی چاہیے۔ مزید قرضہ نہ لے، دین کا لیبل لگا کر یہ کہنا کہ “میں دین کا کام کر رہا ہوں، آپ تھوڑا تھوڑا میرا قرضہ اتار دیں” یہ درست طرزِ عمل نہیں۔
ہم یہ انکار نہیں کر رہے کہ احباب مدد کر سکتے ہیں۔ مقروض کا قرضہ اتارنا زکوٰۃ کی مد میں سے ایک مد ہے، یہ بالکل صحیح اور ثابت بات ہے۔
لیکن ہمارے ہاں ہو یہ رہا ہے کہ ہر بندہ کھڑا ہوتا ہے، چار لوگوں کی زکوٰۃ لیتا ہے، آٹھ لوگوں کی زکوٰۃ لیتا ہے، اور ایک ادارہ کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر معاملہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ حلوائی کی دکان پر خالہ جی کی فاتحہ شروع ہو جاتی ہے۔
حتی کہ ہم نے کراچی میں دیکھا کہ بینر لگے ہوئے تھے کہ “ہم زکوٰۃ سے مسنون علاج کو فروغ دے رہے ہیں”۔ پوچھا گیا کہ وہ کیا ہے؟ جواب ملا: الحجامہ۔ کہا گیا کہ پچھلے سال تین سو لوگوں کو فری حجامہ کی سہولت دی۔ مگر جن کو یہ سہولت دی گئی، وہ سب اہلِ ثروت تھے!
اب بتائیے پھر کیا ہوا؟
لہذا بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کی بجائے کہ کوئی کسی کا منہ بنے یا ناراض ہو، اصل مسئلہ کو سمجھنا چاہیے۔ جو ادارے باقاعدہ وجود میں آ چکے ہیں، ان کا معاملہ الگ ہے۔
لیکن بعض لوگ اسی بنیاد پر ایسے کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے بینک۔ بینک کے پاس اپنا کچھ نہیں ہوتا؛ وہ کسی کے کہنے سننے یا اپنے وسائل سے جگہ لے لیتا ہے، پھر ٹیبل سے لے کر کرسی تک، کرسی سے لے کر چیک بک تک، ہر چیز دراصل کسٹمر ہی کی ہوتی ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص محض لوگوں کی زکوٰۃ اور عطیات پر نظام کھڑا کرے، تو اسے اس کی ذمہ داری اور شرعی تقاضوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ