سوال (3750)
ایک کاروباری شخص نے اپنی رقم کچھ لوگوں کو بطور قرض دے رکھی ہے۔ اور رمضان میں وہ اپنے مال کی زکوة ادا کرے گا، تو کیا وہ اپنی وہ رقم جو اس نے قرض دے رکھی ہے اس کو بھی شامل کرے گا؟
جواب
قرض دی گئی رقم بھی زکوٰة کے حساب میں شامل ہوگی، بشرطیکہ وہ قابلِ وصول ہو۔ اس کی درج ذیل تفصیل ہے:
اگر قرض کی واپسی یقینی ہے تو قرض دینے والا اس رقم کو اپنی زکوٰة میں شمار کرے گا اور ہر سال اس پر زکوٰة ادا کرے گا، چاہے وہ اسے وصول کرے یا نہ کرے۔
اگر قرض کی واپسی مشکوک ہے تو جب تک وہ رقم وصول نہ ہو، اس پر زکوٰة واجب نہیں۔ جب وہ رقم واپس مل جائے، تو گزشتہ سالوں کی زکوٰة ایک ساتھ نکالنی ہوگی۔
اگر قرض وصول ہونے کی امید نہیں ہے تو اس پر زکوٰة لازم نہیں، کیونکہ یہ مال حقیقت میں مالک کے قبضے میں نہیں۔ لیکن اگر بعد میں کبھی وہ رقم واپس مل جائے، تو بہتر ہے کہ اس کی زکوٰة ادا کر دی جائے۔
لہٰذا، اگر قرض کی واپسی یقینی ہے تو زکوٰة کا حساب لگاتے وقت اسے شامل کر لینا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ
اگر قرض دی ہوئی رقم کے بارے میں امید ہے کہ مل جائے گی، تو قرض دینے والا زکاۃ ادا کرے گا، اگر امید ختم ہوچکی ہے، یعنی ڈوب گئے ہیں تو زکاۃ نہیں ہے، جس وقت ملیں گے تو پھر ایک سال کی زکاۃ دینی ہوگی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: امید ہے کہ آپ حضرات خیریت سے ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔
ایک شرعی مسئلے کے بارے میں راہنمائی درکار ہے:
پہلا مسئلہ: اگر کسی شخص نے کسی کو رقم قرض دی ہو، مگر وہ رقم وقت پر واپس نہ مل رہی ہو، بلکہ قسطوں میں مل رہی ہو، اور قسطیں بھی اتنی قلیل ہوں کہ افراطِ زر (Inflation) کی وجہ سے اصل رقم کی قدر تقریباً ضائع ہو جاتی ہو، تو ایسی صورت میں کیا اس شخص پر اس رقم کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی یا نہیں؟
دوسرا مسئلہ: اگر کسی شخص نے کسی کو رقم دی ہو اور ابتدا میں یہی گمان ہو کہ یہ رقم واپس نہیں ملے گی بلکہ ڈوب چکی ہے، مگر دو یا تین سال بعد اللہ تعالیٰ اسباب پیدا فرما دے اور وہ مقروض رقم واپس کر دے، تو کیا اس رقم کے مالک پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی یا نہیں؟
براہِ کرم ان دونوں صورتوں کے بارے میں شرعی راہنمائی فرما دیں۔
اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔
جواب: اگر زکاۃ کی دیگر شرائط پوری ہیں تو دونوں صورتوں میں زکاۃ ادا کرنا لازم ہے، کیونکہ جو رقم بطور قرض کسی کو دی ہوتی ہے وہ قرض دینے والے کی ملکیت ہی ہوتی ہے۔
ہاں البتہ اگر قرض ڈوب جائے تو پھر گویا وہ مال ضائع ہو گیا اور اس کی ملکیت نہ رہا، اس لیے اب وہ زکاۃ ادا نہ کرے گا۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ قرض ڈوبنے کے بعد دوبارہ مل جائے تو پھر اسے کو ڈوبنا نہیں کہنا چاہیے، اس کا مطلب ہے کہ اس کے ملنے کی امید ہے، ایسی صورت میں زکاۃ ادا کرنا ہو گی.
لیکن اگر صورت حال ویسے ہی ہو جیسا کہ سائل نے بیان کیا کہ ڈوبنے کے بعد تیرنا شروع کر دے یعنی مرنے کے بعد زندہ ہو جائے تو پھر جتنے سال قرض مرا اور ڈوبا رہا ہے وہ اتنے سالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا. واللہ اعلم.
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
آپ کسی کو زکاۃ دیں، رقم اس قدر ہو کہ 52.5 تولے چاندی کے برابر ہو، ٹوٹل رقم پر ہر سال زکاۃ ہوگی، کیونکہ وہ رقم آپ کو ملنے کی امید ہے، اب کیسے لوٹائی ہے، وہ ایک الگ مسئلہ ہے، جب تک ساڈھے باون تولے چاندی کی قیمت ہے، پھر زکاۃ ہے، اگر نیچے رقم چلی گئی ہے، اور رقم آپ کے پاس نہ ہو تو پھر زکاۃ نہیں ہے، اگر وہ رقم ڈوب گیا ہے، اچانک رقم نکل آئے، تو پھر ایک سال کی زکاۃ ہوگی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: ایک لاکھ روپے بطور قرض دیے گئے ،مقروض رشتے دار ہے اور اس کی مالی حالت خراب ہے واپس نہیں کرسکتا، قرض خواہ اس کی حالت دیکھ کر چاہتا ہے کہ اس کا قرض معاف کردے لیکن زکات کی مد میں برابر کردے مقروض زکات کا مستحق بھی ہے۔
کیا قرض دینے والے کی زکات ادا ہو جائے گی؟ جزاکم اللہ خیرا
جواب: شیخ محترم زکات کی ادائیگی کے لئے ادا کرنے کا حکم ہے اور ادا یعنی ایتآء الزکواۃ تب ہوتا ہے جب بندہ رقم دیتے وقت زکات کی نیت سے دے رہا ہو۔
جبکہ درج بالا سوال کی صورت میں زکات ادا نہیں کی جارہی بلکہ پہلے سے دئیے ہوئے قرض کو معاف کرتے ہوئے اپنی زکات سے منہا کیا جارہا ہے۔
لہذا قرضہ کو زکات کی مد میں کاٹ لینے سے بندہ فریضہ زکاۃ سے سبکدوش نہیں ہوتا بلکہ ادائیگئ زکاۃ کا فرض باقی رہتا ہے۔
یہ صاحب ثواب کی نیت سے قرض معاف کردیں اور اپنی زکاۃ الگ سے ادا کریں۔ واللہ اعلم
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
پیسے دیتے وقت نیت قرض کی تھی تو ادائیگی زکوۃ میں مائنس نہیں ہو گی۔
ہاں البتہ قرض کی مہلت یا معافی دے کر اجر عظیم پا سکتا ہے۔
زکوۃ کی ادائیگی الگ ہے اور اس طرح کا حیلہ جائز و درست نہیں اگرچہ بہت لوگ کرنے لگ گئے ہیں۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
اگر قرض دیتے وقت یہ نیت تھی، کہ اگر نہ دے گا تو میں زکاۃ سے منہا کردوں گا، اگر پیسے ڈوب گئے ہیں، اب اس کو زکاۃ کی فکر ہو رہی ہے، حیلہ کرنا چاہ رہا ہے تو اب جائز نہیں ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




