سوال     6692

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم
سسرال والوں سے ناراضگی ہو، مخالفت ہو، تو ہمیشہ کے لیے قطع تعلق ہو یا رشتہ داروں سے ہو، تو گناہ ہوگا۔ جبکہ قرآن پاک میں ہے کہ قطع تعلق نہیں کرنی چاہیے۔ جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، ان کو صلح کرنی چاہیے۔ دل نہ کرے تو گناہ ہوگا؟ کیونکہ مسئلے ہی عام طور پر کچھ ایسے ہوتے ہیں، اور اپنی عزت پر بات آتی ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قطع رحمی جائز نہیں ہے۔ رشتے ہوتے ہیں، کبھی ٹوٹتے ہیں، بنتے ہیں، بگڑتے ہیں یہ سب ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کو بنیاد بنا کر قطع رحمی نہیں کرنی چاہیے۔
اگر تعلقات میں کشیدگی ہو تو بھی بس واجب سی سلام دعا کافی ہے، یہ قطع رحمی میں شامل نہیں ہوتا۔ آدمی تعلقات محدود کر سکتا ہے؛ ملاقات ہو جائے تو سلام دعا ہو گئی، بات ختم۔ اگر کوئی موت میت ہو جائے تو وہاں چلے جانا چاہیے، یہ بھی رشتے کے حق میں آتا ہے۔
البتہ کلی طور پر لا تعلق ہو جانا، بالکل رشتہ توڑ دینا یہ درست نہیں ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ