سوال (6607)
کچھ ادارے یا افراد قسطوں پر چیزیں فروخت کرتے ہیں، مثلاً موٹر سائیکل یا گھر کے استعمال کی دیگر اشیاء۔ نقد قیمت کچھ اور ہوتی ہے اور قسطوں کی صورت میں زیادہ رقم لی جاتی ہے، یعنی دو یا زیادہ قسطیں اضافی لی جاتی ہیں۔ اسی طرح بعض بینک یا مالی ادارے یہ کہتے ہیں کہ وہ مثلاً پچاس ہزار یا ایک لاکھ روپے دیتے ہیں، لیکن واپس لیتے وقت قسطوں کی شکل میں اس سے زیادہ رقم وصول کرتے ہیں۔ یہ سہولت بعض اوقات کسی غریب یا ضرورت مند کے لیے کاروبار شروع کرنے کے نام پر بھی دی جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: کیا قسطوں پر زیادہ قیمت لینا شرعاً جائز ہے؟
جواب
قسط پر پیسہ بڑھا کر دینا سود ہے لینے والا بھی سود میں برابر کا شریک ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




