سوال (5974)
مجھے یہ پوچھنا ہے کہ اج کل جو قسطوں پر سامان ملتا ہے تو شرعی لحاظ سے اس کا لینا جائز ہے یا ناجائز یا وہ سود کے زمرے میں اتا ہے جو اج کل پورے پاکستان میں طریقہ کار رائج ہے قسطوں کے حوالے سے برائے مہربانی اس بارے میں مدلل انداز میں بتائیں؟
جواب
صبر کرنا اچھی بات ہوتی ہے، قسطوں کا کام جائز بھی ہے اور نا جائز بھی، شرائط پر فیصلہ ہوتا۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
عرب و عجم کے نوے فیصد علماء قسطوں کے کاروبار کو جائز کہتے ہیں، بشرطیکہ ہر چیز پہلے طے ہوجائے، ایڈوانس، قسط وغیرہ سب طے ہوں، لیٹ فیس نہ لگائی جائے، پھر صحیح ہے، ایک بیع السلف پر قیاس ہے، ایک نوے علماء اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




