سوال 6721
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم ایک سوال ہے کہ قسطوں پر گاڑی لینا کیسا ہے؟ اور سود کن کن چیزوں میں ہوتا ہے کس طرح پتا چل سکتا ہے کہ یہ سود ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قسطوں پر چیز لینا، یعنی نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر خریدنا اس وجہ سے کہ ادائیگی چھ مہینے، ایک سال یا کسی مقرر مدت میں ہو، جائز ہے۔ بشرطیکہ یہ تین باتیں واضح طور پر طے ہو جائیں: چیز کیا ہے، یہ متعین ہو۔ قیمت مکمل اور فائنل طے ہو جائے۔ ادائیگی کا شیڈول اور مدت طے ہو جائے۔
اگر یہ سب باتیں پہلے سے واضح ہوں اور لیٹ فیس یا جرمانے کے نام پر کوئی اضافی رقم نہ لی جائے تو یہ معاملہ جائز ہے۔
اسی پر عرب و عجم کے نوّے سے پچانوے فیصد اہلِ علم نے، فہمِ سلف اور شرعی دلائل کی روشنی میں، جواز کا فتویٰ دیا ہے۔
جہاں تک سود کا تعلق ہے، تو نبی کریم ﷺ نے چھ اجناس (سونا، چاندی، گندم، نمک، کھجور وغیرہ) کا حکم واضح فرما دیا ہے کہ اگر ان کا لین دین ہاتھوں ہاتھ نہ ہو، یا مقدار میں ایک طرف کمی بیشی ہو، تو وہ سود بن جاتا ہے۔ اسی طرح پیسے کے بدلے پیسے میں اضافہ لینا بھی سود ہے۔ لہٰذا قسطوں کا یہ معاملہ اس وقت تک جائز ہے، جب تک اس پر لیٹ فیس یا تاخیر کی صورت میں اضافی چارجز نہ لگائے جائیں۔ جیسے ہی یہ اضافی رقم شامل کی جائے گی، وہ سود کے زمرے میں آ جائے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




