سوال 6784
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم علمائے کرام! ایک مسئلہ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی کے لیے عرض ہے:
رمضان المبارک میں عمومًا یہ صورتِ حال دیکھنے میں آتی ہے کہ:
1) بعض حضرات نمازِ تراویح باجماعت ادا کر لیتے ہیں، لیکن امام کے ساتھ وتر ادا نہیں کرتے، یہ کہہ کر کہ ہم رات کے آخری حصے میں تہجد پڑھیں گے اور وتر بھی اسی وقت ادا کریں گے۔
2) بعض لوگ جان بوجھ کر نمازِ تراویح باجماعت ہی ادا نہیں کرتے، اور ان کا موقف یہ ہوتا ہے کہ رات کے آخری حصے میں نماز پڑھنے کی فضیلت زیادہ ہے، اس لیے وہ صرف تہجد پر اکتفا کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ: قرآن و سنت کی روشنی میں ان دونوں طرزِ عمل میں سے کون سا طریقہ افضل، مسنون اور قابلِ اختیار ہے؟
کیا تراویح باجماعت چھوڑ کر صرف تہجد پر اکتفا کرنا درست ہے؟
اور جو شخص امام کے ساتھ تراویح مکمل کرے، کیا اس کے لیے امام کے ساتھ وتر ادا کرنا افضل ہے یا بعد میں تنہا وتر پڑھنا؟
براہِ کرم دلائل کے ساتھ راہنمائی فرما دیں تاکہ عوام میں رائج اس اشکال کی درست اصلاح ہو سکے۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حدیث میں آتا ہے:
“من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة”
جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
چنانچہ جو لوگ وتر پڑھے بغیر چلے جاتے ہیں، وہ اس خصوصی پیکج سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک عظیم بشارت ہے کہ کم وقت میں زیادہ ثواب آدھے گھنٹے یا ایک گھنٹے میں امام کے ساتھ قیام کی وجہ سے پوری رات کے قیام کا اجر مل جاتا ہے۔
اگر کوئی شخص آٹھ رکعات پڑھ کر چلا گیا تو ان آٹھ رکعات کا اجر تو اسے مل جائے گا، لیکن پوری رات کے قیام کی فضیلت اسے اسی صورت میں ملے گی جب وہ امام کے ساتھ وتر بھی مکمل کرے۔ ورنہ وہ اس خاص بشارت سے محروم رہ جائے گا۔
رہا دوسرا پہلو یہ کہ بعض لوگ امام کے ساتھ تراویح پڑھنے کے بجائے رات کے آخری حصے میں قیام کو فضیلت دیتے ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر انہیں رات کے آخری حصے میں قیام کی توفیق حاصل ہے اور اچھی خاصی تلاوت بھی نصیب ہے، تو یہ یقیناً اچھی بات ہے۔
لیکن باجماعت قیام میں کم وقت میں زیادہ بڑا اجر مل جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر سب لوگ یہی طرز اختیار کر لیں تو مسجدوں کی رونق کہاں جائے گی؟ مسجد کی حاضری اور اجتماعی عبادت کی فضا کو بحال رکھنا بھی ضروری ہے۔
لہذا گاہے بگاہے مسجد میں حاضری لگوانی چاہیے اور باجماعت قیام کی برکت سے بھی محروم نہیں ہونا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم و رحمۃ اللہ
اور اسی کے ساتھ ایک اور سوال ہے کہ اگر نماز تراویح امام کے ساتھ ادا کر لی ہے تو کیا بعد میں وہ نفل نوافل اور رات کے اخری حصے میں ادا کر سکتا ہے؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ جی ہاں، اگر امام کے ساتھ آپ کو قیام حاصل ہو گیا، الحمد للہ، اور رات کے آخری حصے میں آپ دوبارہ سے قیام کرنا چاہتے ہیں تو یہ جائز ہے۔ البتہ وتر پڑھ چکے ہیں تو دوبارہ نہ پڑھیں، جیسا کہ طلق بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں آتا ہے، ابوداؤد وغیرہ۔ تو بہرحال عمل جائز ہے، دوبارہ قیام ہو سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: جزاک اللہ خیرا
شیخ محترم اس پر کچھ سختی کی جاتی ہ، کچھ شیوخ کی طرف سے تو کیا دلیل مل سکتی ہے، تاکہ باحوالہ مسئلہ یاد رہ سکے؟ بارک اللہ فیک
جواب: زارنا طلق بن علي في يوم من رمضان وأمسى عندنا وأفطر ثُمَّ قام بنا الليلة وأوتر بنا ثم انحدر إلى مسجده فصلى بأصحابه حتّى إذا بقي الوتر قدم رجلا فقال أوتر بأصحابك فإنِّي سمعتُ النَّبِيَّ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم يقول لا وتران في ليلة
الراوي: طلق بن علي الحنفي | المحدث: الألباني | المصدر: صحيح أبي داود الصفحة أو الرقم: 1439| خلاصة حكم المحدث: صحيح التخريج: أخرجه أبو داود (1439)
واللفظ له، والنسائي (1679) باختلاف يسير، والترمذي (470) دون القصة في أوله
ابو داؤد میں طلق بن علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ موجود ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جمِ غفیر اس معاملے میں تھا، مگر کسی نے اس پر نقد نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باب میں وسعت اور گنجائش موجود ہے۔
جب آپ آٹھ رکعت پڑھ لیتے ہیں تو آپ سنت کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد اگر آپ باقی ماندہ رات میں قیام کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ اگر کوئی ان زائد رکعات کو سنت کے طور پر لازم قرار دے دے مثلاً یہ کہے کہ بیس سنت ہے، یا چوبیس سنت ہے، یا اٹھائیس سنت ہے تو پھر معاملہ مختلف ہو جائے گا، کیونکہ کسی مخصوص عدد کو سنت قرار دینا بغیر دلیل کے درست نہیں۔
لیکن اگر انہیں مطلق نوافل کے طور پر رکھا جائے، تو پھر یہ عمل جائز ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔
اس کی مثال سفر کی حالت میں سننِ راتبہ سے دی جا سکتی ہے۔ ماقبل اور مابعد کی سنتیں سفر میں پڑھنا نبی ﷺ سے ثابت نہیں، بلکہ صراحتاً ذکر ہے کہ آپ ﷺ فجر کی سنتوں اور وتر کے سوا دیگر سننِ راتبہ ادا نہیں کرتے تھے۔ لیکن اگر کوئی شخص ان مخصوص سنن کو تو چھوڑ دے، البتہ عمومی نوافل ادا کرے، تو یہ اس کے لیے جائز ہے۔
یہی صحابہ کا فہم ہے، انہی کا تعامل ہے، اور کبار اہلِ علم کے فتاویٰ بھی اس پر موجود ہیں۔ اور آج بھی مختلف مقامات پر رات کے آخری حصے میں قیام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
لہذا اگر کوئی اس طرح قیام کرتا ہے تو اس پر غیر ضروری سختی کرنا مناسب نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




