سوال 6896
میرا سوال ہے کہ رمضان میں قنوت وتر میں لمبی دعائیں کی جاسکتی ہیں قنوت نازلہ کی نیت سے؟ شیوخ سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں اللہ تعالٰی آپ کو برکتوں اور عزتوں سے نوازے۔
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری معلومات کی حد تک تو یہ بات درست ہے کہ قنوتِ وتر کو قنوتِ نازلہ میں منتقل کر دیا جائے، دونوں کو جمع کر دیا جائے اور دعاؤں کو بڑھا دیا جائے۔ کبھی کبھار ایسا کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔
سلفِ صالحین کا عمل ہمیں دونوں طریقوں سے ملتا ہے: نازلہ کو قنوت میں اور قنوت کو نازلہ میں پڑھنا؛ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؛ ہاتھ اٹھا کر یا بغیر ہاتھ اٹھائے — یہ ساری صورتیں جواز کے درجے میں ثابت ہیں۔
لہذا ان شاء اللہ اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔ البتہ دعاؤں کو بقدرِ ضرورت رکھا جائے، اور کبھی کبھار جواز کے درجے میں بڑھا لیا جائے تو اس کی گنجائش موجود ہے۔
واللہ اعلم
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




