سوال (3420)

جو وتر کی آخری رکعت میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے اسکی کیا حقیقت اور دلیل ہے؟

جواب

’’قنوت وتر میں دعا ہاتھ اٹھا کر یا اٹھائے بغیر دونوں طرح کی جا سکتی ہے۔ کسی ایک طریقے پر تشدد اور دوام درست نہیں ہے۔ البتہ وتر میں تکبیر تحریمہ کی طرح ہاتھ اٹھانا پھر انہیں باندھ لینا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں’’۔
لجنۃ العلماء للإفتاء، فتوی نمبر: 270
مکمل فتوی:

قنوتِ وتر رکوع سے پہلے پڑھنی چاہیے، یا بعد

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
الھدی میں خواتین پڑھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کرنی چاہیں۔ ویسے دعا کرنی چاہیے۔ رہنمائی فرما دیں
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قنوت وتر رکوع سے پہلے پڑھیں گے۔
بخاری#1002

قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْقُنُوتِ فَقَالَ قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ قُلْتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ قَبْلَهُ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ دعائے قنوت (حضور اکرم ﷺ کے دور میں) پڑھی جاتی تھی۔ میں نے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے۔
قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے پر دلیل نہیں، اس لیے بغیر ہاتھ اٹھائے پڑھیں۔
تنبیہ: قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے۔
مسند احمد#12402

رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ كُلَّمَا صَلَّى الْغَدَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ،

سندہ،صحیح
اسی طرح دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنا بھی عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے ثابت ہے۔
(الادب المفرد#609, سندہ حسن)
قنوت نازلہ فرض نماز میں پڑھنا جائز ہے تو اگر وتروں میں بھی جماعت کے ساتھ رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر پڑھ لی جائے تب بھی صحیح ہے۔ البتہ اگر صرف قنوت وتر کی دعا پڑھنی تو رکوع سے پہلے بغیر ہاتھ اٹھائیں پڑھیں گے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

بارك الله فيكم
میرے بھائی روایت انس بن مالک رضی الله عنہ میں قنوت وتر کا ذکر نہیں ہو رہا بلکہ قنوت نازلہ کا ذکر ہو رہا ہے
رہا قنوت وتر کا مسئلہ تو اس میں وسعت ہے کیونکہ قبل از رکوع کی بھی کوئی روایت ثابت نہیں ہے۔
بلکہ قنوت وتر کی معروف دعا کے دعا وتر ہونے میں بھی اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

قنوت نازلہ کے علاؤہ قنوت وتر رکوع سے پہلے پڑھنے پر الگ سے بھی حدیث موجود ہے۔
ابن ماجہ #1182
نسائی#1700

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَی بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَی وَفِي الثَّانِيَةِ بِقُلْ يَا أَيُّہَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِقُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌ وَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ فَإِذَا فَرَغَ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِہِ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يُطِيلُ فِي آخِرِہِنَّ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تین رکعات وتر پڑھتے۔پہلی رکعت میں سورہ (سبح اسم ربک الاعلی) دوسری میں (قل یایھا الکفرون) اور تیسری میں (قل ہوا للہ احد) پڑھتے تھے۔اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے،پھر جب فارغ ہوتے تو فراغت کے وقت تین دفعہ (سبحان الملک القدوس) ’’پاک ہے بادشاہ نہایت‘‘ پڑھتے۔آخری مرتبہ لمبا کرکے پڑھتے تھے۔
سندہ،صحیح
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

یہ روایت بھی محفوظ نہیں ہے قنوت کے ساتھ
تفصیل دیکھیے سنن أبو داود :(1427) کے تحت کہ امام ابو داود کیا کہتے ہیں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ