سوال        6795

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب بیان کرتے ہوئے، فرمایا کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا، وہ قرآن کا حافظ تھا، مگر وہ قرآن سے غافل ہو گیا تھا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جایا کرتا تھا۔
کتاب: صحیح بخاری حدیث نمبر 1143
حافظِ قرآن کا حفظ بھول جانا: معافی یا دوبارہ یاد کرنا لازم ہے؟

جواب

بظاہر تو ایسے ہی ہیں، جیسے قرآنِ مجید کے حافظ، عالم اور ان کی بداعمالی کو فرض نماز کے ترک کرنے سے جوڑ دیا گیا ہو۔ لیکن صحیح بات یہی ہے کہ شرک کے علاوہ ہر چیز کی معافی ممکن ہے، بشرطیکہ وہ شخص سچی توبہ کرے۔
اگر کوئی بھول گیا ہے اور سچی نیت کے ساتھ توبہ کرتا ہے اور کوشش بھی کرتا ہے، تو ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ ایسے شخص کو نہ مایوس ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے مایوس کرنا چاہیے۔
البتہ یاد رہے کہ قصداً نماز چھوڑنا کفر کے دائرے میں آتا ہے، اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ