“قرآنِ کریم کی حرمت پر کوئی سمجھوتا نہیں”

قرآنِ مجید اللہ ربّ العزّت کی آخری آسمانی کتاب ہے جو خاتم النبیین، رہبرِ اعلیٰ سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ یہ کتاب محض ایک مذہبی صحیفہ نہیں بلکہ ہدایتِ کاملہ، دستورِ حیات اور پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اسی وجہ سے دینِ اسلام میں قرآنِ کریم کی حرمت، عظمت اور تقدیس کا مقام انتہائی بلند ہے۔
سب سے پہلے خود قرآنِ کریم نے اپنی عظمت اور مقام کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ: 77-79)

یعنی یہ بہت ہی باعظمت قرآن ہے، جو ایک محفوظ کتاب میں ہے، جسے پاک اور مطہر لوگ ہی چھوتے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اپنی ذات میں انتہائی محترم و مقدس کتاب ہے اور اس کے ساتھ ادب و احترام کا خاص اہتمام مطلوب ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی شان کو بلند کرتے ہوئے فرمایا:

وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ (فصلت: 41-42)

یعنی یہ ایک غالب اور باوقار کتاب ہے، جس کے پاس باطل نہ آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم ہمیشہ حق کا معیار رہے گا اور اس کی حرمت و تقدیس ہمیشہ برقرار رہے گی۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرآنِ کریم کے ادب و احترام کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خيركم من تعلم القرآن وعلمه (صحیح البخاری)
یعنی تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔
اس حدیث سے قرآنِ کریم کی عظمت اور اس کی خدمت کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم قرآنِ کریم کے ادب و احترام میں بے مثال تھے۔ وہ قرآنِ کریم کو انتہائی اہتمام سے یاد کرتے، اس کی تلاوت کرتے، اس پر عمل کرتے اور اس کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے تھے۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں جب جنگِ یمامہ میں بہت سے حفاظِ قرآن شہید ہوگئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآنِ کریم کو ایک مصحف میں جمع کروانے کا عظیم کام سرانجام دیا۔ بعد میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی باقاعدہ تدوین و اشاعت کا انتظام فرمایا تاکہ قرآنِ کریم محفوظ رہے اور اس کی حرمت تاقیامت قائم و دائم رہے۔
قرآنِ کریم کی حرمت اور اس کے عقیدے کے تحفظ کے لیے تاریخ میں بہت سے علماء کرام نے عظیم قربانیاں دیں۔ ان میں ایک درخشاں مثال امام اہل السنہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی ہے۔ عباسی خلیفہ کے دور میں معتزلہ کے زیرِ اثر یہ نظریہ پھیلایا گیا کہ قرآنِ کریم مخلوق ہے۔ اس نظریے کو سرکاری عقیدہ بنانے کی کوشش کی گئی اور علماء کرام کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس کو تسلیم کریں۔ اس آزمائش کو تاریخ میں محنۃ خلق القرآن کہا جاتا ہے۔
جب علماء کرام سے پوچھا گیا کہ قرآن مخلوق ہے یا نہیں تو بہت سے لوگوں نے خوف کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلی، لیکن امام اہل السنہ، جبلِ استقامت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے صاف اور واضح موقف اختیار کیا کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے نہ کہ مخلوق۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم کو مخلوق کہنا اہلِ سنت کے عقیدے کے خلاف ہے۔
اس مؤقف کی وجہ سے انہیں گرفتار کرلیا گیا اور بغداد کی قید میں ڈال دیا گیا۔ پھر انہیں دربار میں لا کر مجبور کیا گیا کہ وہ قرآنِ کریم کو مخلوق کہیں، مگر انہوں نے انکار کردیا۔ اس کے نتیجے میں انہیں شدید سزائیں دی گئیں۔ تاریخی روایات میں آتا ہے کہ انہیں دربار میں لایا گیا اور جلادوں کو حکم دیا گیا کہ کوڑے مارے جائیں۔ چنانچہ انہیں سخت کوڑے مارے گئے یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو جاتے، پھر ہوش آنے پر دوبارہ یہی مطالبہ کیا جاتا کہ قرآنِ کریم کو مخلوق کہو۔ مگر انہوں نے ہر بار یہی جواب دیا کہ قرآنِ کریم اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ کوڑوں کی شدت سے ان کا جسم زخمی ہوگیا تھا اور بعض اوقات وہ بے ہوش ہو جاتے تھے، لیکن انہوں نے اپنے مؤقف سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کی ثابت قدمی کو قبول فرمایا اور بعد میں یہ فتنہ ختم ہوگیا اور امام اہلِ سنہ کا عقیدہ غالب رہا۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ واقعہ اس بات کی عظیم مثال ہے کہ قرآنِ کریم کے عقیدے اور اس کی حرمت کے معاملے میں اہلِ حق نے کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ انہوں نے جسمانی اذیتیں برداشت کرلیں لیکن قرآنِ کریم کے بارے میں غلط عقیدہ قبول نہیں کیا۔
اسلامی شریعت میں قرآن کے احترام کے کئی عملی مظاہر بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً باوضو ہو کر قرآن کو چھونا، اسے بلند اور پاک جگہ پر رکھنا، اس کی بے ادبی سے بچنا اور اس کی تلاوت کے وقت ادب و خشوع اختیار کرنا۔ فقہاء کرام نے واضح طور پر لکھا ہے کہ قرآن کی بے حرمتی سخت گناہ بلکہ بعض صورتوں میں کفر تک پہنچا دیتی ہے۔
بدقسمتی سے تاریخ کے مختلف ادوار میں اسلام دشمن عناصر نے قرآنِ کریم کی بے حرمتی کی جسارتیں کیں، کبھی اس کی توہین کی گئی، کبھی اسے جلانے یا اس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی تمام سازشیں قرآنِ کریم کے نور کو بجھا نہیں سکیں کیونکہ اللہ تعالیٰ خود اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ لے چکا ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: 9)

یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآنِ کریم) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
لہٰذا ایک مسلمان کا یہ ایمانی فریضہ ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی حرمت کی حفاظت کرے، اس کی تعلیمات کو عام کرے اور ہر اس کوشش کے خلاف آواز اٹھائے جو قرآنِ کریم کی شان کے خلاف ہو۔ قرآن کی حرمت کا دفاع صرف جذبات سے نہیں بلکہ علم، حکمت اور مضبوط دلائل کے ساتھ ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ اصل تعظیم یہی ہے کہ قرآنِ کریم پر عمل کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی حرمت صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ایمان اور غیرت کا مسئلہ ہے۔ جب تک مسلمان قرآنِ کریم کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے رکھیں گے، ان کی عزت، وحدت اور قوت برقرار رہے گی۔ لیکن اگر قرآنِ کریم کو پسِ پشت ڈال دیا گیا تو امت کمزوری اور انتشار کا شکار ہو جائے گی۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عزم پیدا کرے کہ قرآنِ کریم کی حرمت، عظمت اور تقدیس پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ قرآن ہمارا ایمان، ہماری شناخت اور ہماری ہدایت ہے، اور اس کی حرمت کی حفاظت ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔

 یاسر مسعود بھٹی

یہ بھی پڑھیں: قرآن مجید کا تصوّر تدّبر ایک تحقیقی جائزہ