سوال (6471)
میں نے کسی بدعتی شخص کو کہا اپ قرآن وحدیث سے قبروں پر مزارات ثابت کرو ساتھ میں نے یہ کہا حضرت ابو بکر سب سے بڑے ولی ان کی قبر پر کوئی مزار نہیں اس نے کہا روزہ رسول پر عمارت ہے مجھ کو سوال کیا میرے پاس جواب نہیں تھا۔
جواب
قبر پر عمارت بنانا منع ہے۔ مسلم: 2245
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر بھی عمارت نہیں بنائی گئی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کو دفن ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرہ میں کیا گیا جو کہ پہلے سے بنا ہوا تھا۔
مستدرک حاکم: 4400
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : ” رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطَتْ فِي حُجْرَتِي، فَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنْ تَصْدُقْ رُؤْيَاكِ يُدْفَنُ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ، *فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَدُفِنَ، قَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ: يَا عَائِشَةُ، هَذَا خَيْرُ أَقْمَارِكِ، وَهُوَ أَحَدُهَا
میں نے خواب دیکھا کہ تین چاند میرے حجرے میں اترے ہیں۔ میں نے سیدنا ابو بکر ہی اللہ سے تعبیر پوچھی ، تو فرمایا : عائشہ ! اگر آپ کا خواب سچا ہے، تو ( اس کی تعبیر یہ ہے کہ ) آپ کے گھر میں کائنات کے تین بہترین لوگ دفن ہوں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور دفن ہوئے تو مجھے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عائشہ ! آپ کے چاندوں میں سے سب سے بہترین چاند یہ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ ان چاندوں میں سے ایک ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خود بھی تھے۔ سندہ،صحیح
اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا اجماع تھا جو انہی(تین شخصیات) کے ساتھ خاص تھا۔
باقی معاملات وہاں فقط حفاظت کے لیے ہیں۔ جو روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر باطل طریقہ سے مسئلے کا استدلال کرتے ہیں انہیں بقیع کے قبرستان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی کچی ,بالشت سے کم اونچی قبروں کو بھی دیکھنا چاہیے. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
شیخ نے وضاحت کردی ہے، دین قرآن و حدیث کا نام ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبروں میں مزار بنانا منع ہے، اب سیاسی کی وجہ سے بعد میں والے نے عمارت بنائی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس عمارت کو اگر گرایا جائے تو مفاسد بہت ہیں، اس بنا پر اگر اس کو چھوڑا جائے، تو یہ دینی مسئلہ نہیں ہے، سوال یہ ہونا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر میں عمارت بنائی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




