سوال (6603)
رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے۔
جو اس میں بارہ 12 رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی کسی ایک سورت اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھے اور بارہ پوری ہونے پر سلام پھیرے، اس کے بعد ۱۰۰ بار یہ پڑھے:
سُبْحَنَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَر،
استغفار سوبار، درود شریف سو بار پڑھے اور اپنی دنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب دُعا ئیں قبول فرمائے سوائے اُس دُعا کے جو گناہ کے لئے ہو۔ (شعب الإيمان ج۳ ص ۳۷۴ حدیث (۳۸۱۲)
اس کی وضاحت فرمائیں؟ جزاکم اللہ خیرا
جواب
رجب کے مہینے میں مخصوص روزے اور نمازیں کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں بلکہ اس بارے میں مروی تمام روایات غیر ثابت ،اور من گھڑت ہیں ایسی روایات کو ائمہ محدثین نے بطور دلیل کے نقل نہیں کیا ہے بلکہ معرفت و پہچان کے لئے نقل کیا ہے تا کہ کوئی ایسی روایات کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیث نہ سمجھ لے مقصد رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث کی حفاظت کرنا تھی اور دشمنان اسلام کی ناپاک کوشش کو ناکام بنانا اور ظاہر کرنا تھا۔
آپ کی مطلوبہ روایت بھی من گھڑت ہے۔
ملاحظہ کریں:
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﺤﺎﻓﻆ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺻﺎﻟﺢ ﺧﻠﻒ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﺒﺨﺎﺭﻯ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻣﻜﻲ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ، ﻭﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ، ﻗﺎﻻ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻧﺼﺮ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻴﻦ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﻴﺴﻰ ﻭﻫﻮ اﻟﻐﻨﺠﺎﺭ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ، ﻋﻦ ﺃﺑﺎﻥ، ﻋﻦ ﺃﻧﺲ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: ﻓﻲ ﺭﺟﺐ ﻟﻴﻠﺔ ﻳﻜﺘﺐ ﻟﻠﻌﺎﻣﻞ ﻓﻴﻬﺎ ﺣﺴﻨﺎﺕ ﻣﺎﺋﺔ ﺳﻨﺔ، ﻭﺫﻟﻚ ﻟﺜﻼﺙ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺭﺟﺐ، ﻓﻤﻦ ﺻﻠﻰ ﻓﻴﻬﺎ اﺛﻨﺘﻲ ﻋﺸﺮﺓ ﺭﻛﻌﺔ ﻳﻘﺮﺃ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺭﻛﻌﺔ ﻓﺎﺗﺤﺔ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﻭﺳﻮﺭﺓ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻳﺘﺸﻬﺪ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ، ﻭﻳﺴﻠﻢ ﻓﻲ ﺁﺧﺮﻫﻦ، ﺛﻢ ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﺒﺤﺎﻥ اﻟﻠﻪ، ﻭاﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ، ﻭﻻ ﺇﻟﻪ ﺇﻻ اﻟﻠﻪ، ﻭاﻟﻠﻪ ﺃﻛﺒﺮ ﻣﺎﺋﺔ ﻣﺮﺓ، ﻭﻳﺴﺘﻐﻔﺮ اﻟﻠﻪ ﻣﺎﺋﺔ ﻣﺮﺓ، ﻭﻳﺼﻠﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺎﺋﺔ ﻣﺮﺓ، ﻭﻳﺪﻋﻮ ﻟﻨﻔﺴﻪ ﻣﺎ ﺷﺎء ﻣﻦ ﺃﻣﺮ ﺩﻧﻴﺎﻩ ﻭﺁﺧﺮﺗﻪ، ﻭﻳﺼﺒﺢ ﺻﺎﺋﻤﺎ ﻓﺈﻥ اﻟﻠﻪ ﻳﺴﺘﺠﻴﺐ ﺩﻋﺎءﻩ ﻛﻠﻪ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﺪﻋﻮ ﻓﻲ ﻣﻌﺼﻴﺔ،
شعب الإيمان للبيهقى :3531) ،فضائل الأوقات للبيهقي:(12) ،جزء في فضل رجب لابن عساكر:(12) سنده موضوع
(1) پہلی بڑی علت اس سند کا راوی محمد بن الفضل بن عطیہ کذاب ہے
امام الجرح والتعدیل أحمد بن حنبل نے کہا:
ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲء ﺣﺪﻳﺜﻪ ﺣﺪﻳﺚ ﺃﻫﻞ اﻟﻜﺬﺏ
العلل ومعرفة الرجال برواية ابنه عبد الله :(3601)
امام یحیی بن معین نے کہا: كذاب
من كلام أبي زكريا يحيى بن معين في الرجال:(334) ،الجرح والتعديل:8/ 57
اس پر ائمہ محدثین وجهابذه کی کثیر تعداد نے سخت جرح کی ہے تفصیل دیکھیئے الجرح والتعدیل:8/ 57،58،تهذيب الكمال بتحقیق دکتور بشار عواد:(5546) اور عام کتب تراجم
(2) اس کا شیخ أبان بن أبی عیاش بھی سخت ضعیف ہے۔
امام أحمد بن حنبل نے کہا:
ﻣﺘﺮﻭﻙ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺗﺮﻙ اﻟﻨﺎﺱ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻣﺬ ﺩﻫﺮ ﻣﻦ اﻟﺪﻫﺮ،
العلل ومعرفة الرجال برواية ابنه عبد الله: (872)
اور کہا: منكر الحديث
الجرح والتعديل :2/ 296
امام أبو حاتم الرازی نے کہا:
ﻣﺘﺮﻭﻙ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻛﺎﻥ ﺭﺟﻼ ﺻﺎﻟﺤﺎ ﻟﻜﻦ ﺑﻠﻰ ﺑﺴﻮء اﻟﺤﻔﻆ.
الجرح والتعديل :2/ 296
امام یحیی بن معین نے کہا:
ليس ﺑﺸﻲء
من كلام أبي زكريا يحيى بن معين في الرجال: (33)
اس راوی پر تفصیل دیکھیے تھذیب الکمال: (142) اور عام کتب تراجم میں
الحاصل: یہ روایت موضوع ،من گھڑت ہے اور اس ماہ رجب کی فضیلت میں تمام روایات سخت ضعیف ہیں، اس کی صرف یہی فضیلت کافی ہے کہ یہ مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




