سوال       6833

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
علماء کرام سوال یہ تھا کہ جس طرح ابن عثیمین رحمہ اللہ کے فتویٰ میں یہ بات ذکر ہے کہ رمضان کریم کہنا درست نہیں تو کیا۔ رمضان شریف بھی کہنا درست نہیں ہوگا یا پھر وہ کہا جا سکتا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
شیخِ محترم رحمہ اللہ کی اپنی رائے تھی، اور اس کے علاوہ ہماری اور دیگر اہلِ علم کی رائے بھی یہی ہے۔ ایک طالبِ علم ہونے کی حیثیت سے جو ہم نے پڑھا اور سنا ہے، اس کے مطابق کریم، عظیم، مبارک، شریف وغیرہ کہنا بالکل جائز ہے۔
یہ دراصل ایک دعائیہ کلمہ ہے اور اسی کے دائرے میں آتا ہے۔ عربی میں گرامر کی تمام گنجائشیں موجود ہیں: فاعل کو مفعول بنایا جائے، مفعول کو کسی اور طرح سے بولا جائے یہ سب چلتا ہے اور اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔
شیخ بن باز رحمہ اللہ نے بھی اس کی اجازت دے رکھی ہے، لہذا اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ