سوال 7001
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک سوال تھا کہ ایک آدمی ماہ رمضان میں صوم و صلاۃ کا پابند ہو جائے اور رمضان کے بعد پھر وہی عادتیں اپنا لے نماز نہ پڑھنا وغیرہ اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کی ماہ رمضان کی عبادات کا اسے فائدہ ہوگا؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نیکی، نیکیوں کا راستہ کھولتی ہے، اور مقبول نیکیوں کی علامت یہ ہے کہ انسان آگے بھی نیکیوں پر چلتا رہے۔ یہ اہلِ علم کا ایک استنباط ہے جو دلائل کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
اب اس کا معاملہ اس کے رب کے ساتھ ہے۔ ہمارے پاس کوئی سختی والا قانون موجود نہیں، بلکہ کوئی ایسا قانون ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ہم ترغیب و ترہیب کے ذریعے ہی ایسے شخص کو سمجھا سکتے ہیں، یہی ہمارا کام ہے۔
“هَلْ عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ”
“لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ”
لہذا اسے سمجھانا چاہیے، بتانا چاہیے، آگاہ کرنا چاہیے، اور تنبیہِ بلیغ کرنی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ ایسے ہر نیک عمل کا اجر اسے مل جائے گا، وہ بے نماز ہی کیوں نہ ہو؟
جواب: یہ تو کل قیامت کے دن فیصلہ ہو گا کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔ ہمارے حصے میں بس یہ ہے کہ بندے کو ترغیب و ترہیب کے ساتھ سمجھایا جائے۔ ہمیں حکمت کے ساتھ بات پہنچانی چاہیے، حجت تمام کر دینی چاہیے، ترغیبی پہلو بھی سامنے رکھ دیں اور ترہیب بھی۔ ترغیب بھی ہو، ترہیب بھی ہو، جیسا کہا جاتا ہے۔
اب جو اسے ملنا ہو گا، مل جائے گا۔ اصل چیز تو توحید ہے، اگر اس کی توحید برباد نہیں ہوئی تو اللہ جس کو چاہے، جس کے لیے چاہے، بخش دے گا:
“وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ”
یاد رکھیں کہ بہت سے اعمال اور حرکات و سکنات بھی انسان کے اعمال کو برباد کر دیتے ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ لہٰذا ساری باتیں اور سارے پہلو سامنے رکھنا چاہیے۔ عام طور پر خطبہ جمعہ ایک ذریعہ رہتا ہے، اس میں صحیح بات ہو سکتی ہے۔
گاہے بگاہے ایسے شخص کو تنبیہ کرنا چاہیے، انفرادی طور پر بھی موقع ملے تو۔ باقی لوگ بدظن ہو سکتے ہیں، ظاہر سی بات ہے۔ دعوت و تبلیغ کا میدان بہت زیادہ صبر اور تحمل مانگتا ہے۔ بعض اوقات انسان دور ہو جائے، پھر قریب آ جائے، پھر دور ہو جائے، لیکن تنبیہ جاری رہنی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



