سوال (4003)

کیا مندرجہ ذیل احادیث صحیح ہیں؟

(1) :”كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ مَا شَاءَ اللَّهُ”

“انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے”
(2) : “جو شخص اس میں قرب الہی کی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے اسے دیگر مہینوں میں ایک فرض ادا کرنے کے برابر سمجھا جاتا ہے، اور جو شخص اس میں ایک فرض ادا کرتا ہے گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے” [أخرجه ابن خزيمه في الصحيح، 3/191، الرقم : 1887، والبيهقى فى شعب الإيمان 3/305، الرقم : 3609 والمنذري فى الترغيب والترهيب 2/58، الرقم : 1483، والحارث في المسند، 1/412، الرقم : 312]

جواب

سنن ابن ماجہ والی روایت صحیح ہے، نیچے والی روایت ضعیف ہے کہ ستر گنا بڑھا دیے جاتے ہیں، اعمال دس گنا، سات گنا بڑھا دیے جاتے ہیں، اس کے باوجود روزے کو الگ رکھا گیا ہے، روزہ کا اجر بڑا ہے، روزے میں کیے گئے اعمال سات سو تک جا سکتے ہیں۔ ستر والی روایت اس میں کلام ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

پہلی حدیث صحیح ہے،
دوسری حدیث جو صحیح ابن خزیمہ وغیرہ میں ہے یہ ضعیف، ومنکر ہے، علی بن زید بن جدعان سیئ الحفظ ضعیف الحدیث راوی ہے اور اس کا تفرد بھی ہے سعید بن مسیب کے ثقات تلامذہ میں سے کوئی اور راوی اسے بیان نہیں کرتا ہے، اس ماہ مبارک کے جو صحیح فضائل احادیث صحیحہ و ثابتہ میں ذکر ہوئے ہیں وہی کافی ہیں۔
تفصیل دیکھیے سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني: (871)
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ